اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 407

407 باتوں کے گواہ ہو، انہوں نے کہا ہاں۔پھر خنساء نے کہا تمھیں معلوم ہے کہ میں نے تمھیں بہت محنت مشقت سے پالا ہے اور اس کے بدلہ میں میں نے تم سے کوئی خدمت نہیں لی۔انہوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے۔پھر ماں نے کہا تم میرے تین بچے ہو اور تمھارے بغیر میرا دنیا میں کوئی نہیں اور میری محبت تمھاری خدمت سے ظاہر ہے۔دیکھو آج اسلام پر ایسا وقت ہے کہ اسے لڑائی کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے اس لئے تم لڑائی میں جاؤ۔اگر شام میں فتح پا کر لوٹے تو زندہ لوٹنا نہیں تو تمھاری لاشیں میدان جنگ میں پڑی ہوئی نظر آئیں۔اگر تم نے میرا یہ حکم نہ مانا تو میں قیامت کے دن تمھیں دودھ نہیں بخشوں گی۔لڑکوں نے کہا ہاں اماں ہمیں منظور ہے۔یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے۔سب سے بڑی مصیبت جو مسلمانوں کو اس جنگ میں پیش آئی وہ یہ تھی کہ ایرانی این جنگ میں لڑائی کے سدھائے ہوئے ہاتھی مقابلہ پر لے آئے تھے۔جب کوئی گھوڑا یا اونٹ ہاتھیوں کے سامنے آتا تھا تو بھاگ جاتا تھا۔ایک مسلمان جرنیل آیا اور اس نے ان تینوں میں سے دو بھائیوں کو کہا کہ تم میرے ساتھ مل کر چلو۔ہم سامنے سے ہاتھیوں پر حملہ کر دیں گے۔کوموت یقینی ہے لیکن امید ہے کہ اس طرح باقی مسلمان بچ جائیں گے۔انہوں نے کہا ہمیں منظور ہے۔ہاتھی پر سامنے سے حملہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ جولڑائی کے سدھائے ہوئے ہاتھی ہوتے ہیں وہ آدمی کو سونڈ ھ میں لپیٹ کر زمین سے اٹھا کر دے مارتے ہیں۔انہوں نے جاتے ہی سردار لشکر کے ہاتھی پر حملہ کر دیا۔دونوں بھائیوں میں سے ایک ہاتھی کے دائیں طرف ہو گیا اور دوسرا بائیں طرف ، اور وہ جرنیل خود سامنے کھڑا ہو گیا جب سامنے سے جرنیل حملہ کرتا تو ہاتھی دائیں بائیں منہ پھیر تا۔جب ہاتھی دائیں منہ کرتا تو دائیں طرف والا اس کی سونڈھ پر تلوار مارنے کی کوشش کرتا۔ہاتھی اسے اپنی سونڈھ سے اٹھا کر زمین پر دے مارتا۔پھر جب ہاتھی بائیں طرف منہ کرتا تو دوسرا بھائی اس کی سوندھے پر تلوار مارنے کی کوشش کرتا ہا تھی اسے بھی اپنی سونڈھ سے اٹھا کر زمین پر دے مارتا لیکن وہ دونوں بھائی اس کے پہلوؤں سے نہ ہٹے بخشی کہ انہوں نے اسے بری طرح زخمی کر دیا آخر ہاتھی گھبرا کر پیچھے بھاگا۔اس ہاتھی کا بھا گنا تھا کہ دوسرے اس کے ساتھ کے ہاتھی بھی بھاگ نکلے۔اور ہاتھیوں کے بھاگنے سے دوسرے لشکر میں کھلبلی مچ گئی اور سارا ایرانی لشکر بھاگ نکلا اور اسلامی لشکر نے فتح پائی۔پس یہ بھی مور نہیں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کا میدان جنگ میں شہید ہونا پسند کیا اور ناکامی کی صورت میں اُن کا منہ دیکھنا پسند نہ کیا۔اور آج وہ عورتیں ہیں کہ بچوں کو زندگی قربان کرنے کی تعلیم دینا تو الگ رہا -