اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 405
405 ضرورت ہے کہ جہاں اُن کو کھڑا کیا جائے وہ وہاں سے ایک قدم بھی نہ ہمیں سوائے اس کے کہ اُن کی لاش ایک فٹ ہماری طرف گرے تو گرے لیکن زندہ انسان کا قدم ایک فٹ آگے پڑے پیچھے نہ آئے۔ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور یہی لوگ ہیں جو قوموں کی بنیاد کا کام کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ہر آدمی کفن بردوش ہے منهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام کی راہ میں اپنی جانیں دے دی ہیں اور کچھا نتظار کر رہے ہیں یہ وقف ہے جودنیا میں تغیر پیدا کیا کرتا ہے۔پس اساتذہ اور والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی پورے طور پر نگرانی کریں اور انہیں محنت کا عادی بنا ئیں۔نماز ، روزہ اور دیگر اسلامی احکام کا اُن کو پابند کریں۔دین کے حکموں کے متعلق انکے اندر دلچسپی پیدا کریں۔اساتذہ طالب علموں کے ماں باپ کو انگیٹ کریں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کا پورا پورا خیال رکھیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ مائیں ہی آئندہ اچھے یا برے مستقبل کی ذمہ دار ہوتی ہیں کیونکہ بچہ اکثر اخلاق چھوٹی عمر میں سیکھتا ہے۔اگر مائیں کڑی نگرانی کریں اور اُن کے اندر کوئی بری بات نہ پیدا ہونے دیں تو وہ بڑے ہو کر بہت حد تک بُری عادات سے محفوظ رہتے ہیں۔لیکن اگر بچپن میں ہی بچے کو چوری کی یا جھوٹ بولنے کی یا کوئی اور بری عادت سے باز نہ رکھیں تو وہ بڑا ہو کر اس عادت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ہمارے ملک میں مشہور ہے کہتے ہیں کہ کوئی ماں تھی اُس کالڑ کا چور ہو گیا، پھر چور سے ڈاکو بنا۔ایک دفعہ ڈا کہ میں اس سے قتل ہو گیا۔اس قتل کی وجہ سے اسے پھانسی کی سزا ملی جب اُسے پھانسی دینے لگے تو اُس نے کہا کہ مجھے اجازت دی جائے کہ اپنی ماں سے ایک بات کرلوں۔اس پر ماں کو بلایا گیا۔جب وہ آئی تو اُس نے کہا میں اس سے کان میں بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا اس طرح کر لو۔اُس نے اپنی ماں کے قریب ہو کر زور سے اس کے کلے کو کاٹا۔ماں چیچنیں مارتی ہوئی پیچھے کو بھاگی لوگوں نے اس کو لعنت ملامت کی کہ تم بڑے بدکردار آدمی ہو۔تمہیں پھانسی مل رہی ہے اور پھر بھی تم نے اس سے عبرت حاصل نہیں کی۔اور تمھارا دل نرم نہیں ہوا۔اب تم نے ماں کے گلے پر کاٹ کھایا ہے۔اس نے کہا آپ لوگوں کو علم نہیں کہ مجھ کو یہ پھانسی ماں کی وجہ سے مل رہی ہے میرا کلہ کا نا پھانسی کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔اصل بات یہ ہے کہ میری ماں کو میری جگہ پھانسی مالنی چاہیئے تھی۔پھر اس نے بتایا کہ میں چھوٹا بچہ تھا لیکن آوارہ پھرا کرتا تھا۔اگر کوئی شخص میری ماں سے میرے متعلق