اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 404

404 تربیت اولا د اور احمد کی خواتین فرموده ۲۵ جنوری ۱۹۴۶ میرے نزدیک نوجوانوں میں محنت سے کام کرنے کی عادت کی ذمہ داری استادوں اور والدین پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے بچوں کو محنت اور مشقت کرنے کا عادی نہیں بنایا۔ہمارا مقابلہ تو اُن قوموں سے ہے جن سے نو جوانوں نے چالیس چالیس سال تک شادی نہیں کی اور اپنی عمریں لیبارٹریوں میں گزار دیں اور کام کرتے کرتے میز پر ہی مر گئے اور جاتے ہوئے بعض نہایت مفید ایجادیں اپنی قوم کو دے گئے۔مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے کہ جن کے پاس گولہ بارود اور دوسرے لڑائی کے ہتھیار نہ رہے تو انہوں نے امریکہ سے روی شدہ بندوقیں منگوا ئیں اور انہی سے اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔انگلستان والوں نے کہا کہ بے شک جرمن آ جائے ہم اس سے سمندر میں لڑیں گے۔اگر سمندر میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو پھر اس سے سمندر کے کناروں پر لڑیں گے اور اگر سمندر کے کناروں پر لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم اس سے شہروں کی گلیوں میں لڑیں گے اور اگر گلیوں میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم گھروں کے دروازوں تک مقابلہ کریں گے اور اگر پھر بھی مقابلہ نہ کر سکے تو کشتیوں میں بیٹھ کر امریکہ چلے جائیں گے مگر اس سے جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ہمارا مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے اور ہمیں اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے نو جوان دئے جاتے ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم بھوکے رہیں گے ، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم جنگلوں اور پہاڑوں اور ویرانوں میں جائیں گے، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم وطن سے بے وطن ہوں گے ، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اپنی ہر ایک عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیاررہیں گے لیکن جب اُن کو کام پر لگایا جاتا ہے تو کوئی کہ دیتا ہے کہ میرا چالیس روپیہ میں گزارہ نہیں ہو سکتا تھا اس لئے بھاگ آیا ہوں۔کوئی کہہ دیتا ہے کہ میر ا وہاں دل نہیں لگتا تھا اس لئے میں کام چھوڑنے پر مجبور ہوا اور ساتھ ہی لکھ دیتا ہے کہ سلسلہ میرے اس فعل پر بُرا نہ منائے اور میرا وقف قائم رکھا جائے۔جاتا تو وہ اپنے ماں باپ یا بیوی کی معیت میں وقت گزارنے کے لئے ہے کیونکہ وہ اُداس ہو گیا تھا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ میر اوقف قائم رکھا جائے۔ایسے نو جوان ہیں جو ہمیں دئے جاتے ہیں ان سے کسی نے کام کیا لینا ہے۔ہمیں تو ایسے آدمیوں کی