اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 381

381 باتیں ہیں جو عورتوں کی ترقی اور ان کی تربیت میں مد ہو سکتی ہیں۔ان کے بغیر ان کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں ہوسکتی۔از مصباح فروری ۱۹۴۵ء) 66 مبشر الهام (۲۶۔اپریل بعد نماز مغرب_مجلس علم و عرفان قادیان) دوسرا ایک الہام ہے جو اپنے اندر بڑی بشارت رکھتا ہے۔گو اس فکر کا پہلو بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ ایک ذبتہ داری عائد کی گئی ہے اور ذمہ داری بہت کم لوگ ادا کیا کرتے ہیں۔بہر حال آج رات مجھے یوں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔“ گویا اسلامی فتوحات جو آئندہ آنے والی ہیں ان میں عورتوں کی اصلاح کا بہت بڑا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر اس کے فضل و کرم سے جماعت کی پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح ہو جائے یا شاید قادیان کی عورتیں مراد ہوں تو ترقی اسلام کے سامان مہیا ہو جا ئینگے اس الہام کے ذریعہ جماعت کے افراد پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ ان میں سے ہر شخص عورتوں اور لڑکیوں کی اصلاح کی طرف توجہ کرے اور کوشش کرے کہ انہیں اسلامی تعلیم حاصل ہو۔ان میں اسلامی اخلاق پیدا ہوں اور اسلام کی خدمت کا احساس اُن کے دلوں میں موجزن ہو۔پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کے معنے یہ ہیں کہ ہم ایسا کر لیں تو پچاس فیصدی مرد خدمت دین کے تیار ہو جائیں گے۔کیونکہ بسا اوقات مردوں کی قربانی میں عورتیں ہی روک بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔لیکن اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح ہو جائے اور وہ بجائے اس کے کہ اپنے مردوں کو خدمت دین سے روکیں اُن کو ترغیب و تحریص دلائیں کہ جاؤ اسلام کی خدمت کرو تو نتیجہ یہ ہوگا کہ پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کے ساتھ ہی پچاس فیصدی مردوں کی بھی اصلاح ہو جائے گئی۔اور اگر جماعت میں اتنی قربانی پیدا ہو جائے کہ اس میں نصف ہی اسلام کی خدمت کے لئے ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ ہو جائیں تو اس الہام کی رو سے یہ بھی اسلام کی ترقی کے لئے کافی ہوگا۔اور اس کے نیک تائج خدا تعالیٰ کے فضل سے ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے۔“ الفضل قادیان دارلامان مورخہ ۲۹۔اپریل ۱۹۴۴ء