اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 380

380 اختیار کروں۔آخر یہ کیا بات ہے کہ خدا نے میرے سینہ میں بھی دل رکھا، میرے اندر میرے جذبات و احساسات پیدا کئے ، مجھے بھی عقل و فہم کا مادہ عطا کیا اور میرے اندر بھی شعور کی قوت اس نے رکھی مگر باوجود اس کے اُسنے مرد کو اختیار دیا کہ وہ جو سلوک چاہے میرے ساتھ کرے چاہے تو اچھا کرے اور چاہے تو بُرا میرا اختیار نہیں کہ میں اُس کے کسی فعل پر اعتراض کر سکوں۔پس مردوں کے ایسے غیر منصفانہ طریق عمل کے بعد اگر عورت بغاوت اختیار کرے تو وہ بالکل حق بجانب سمجھی جائے گی۔وہ کہے گی کہ اگر یہ تعلیم قرآن نے دی ہے تو پھر یہ قرآن اُس خدا کی کتاب نہیں جس نے مجھے دل دیا ہے۔اگر اس تعلیم کے ماتحت مجھے کہا جاتا ہے کہ میں اپنی قوت فکر سے کام نہ لوں تو یہ تعلیم دینے والا وہ خدا نہیں ہو سکتا جس نے مجھے قوت فکر یہ عطا کی ہے۔گویا اُس کے اندر مذہب اور اس کی تعلیم کے خلاف جذبات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔کبھی اسے خیال آتا ہے کہ ممکن ہے یہ بات ہی غلط ہو اور مذہب نے یہ تعلیم نہ دی بلکہ قصور مرد کا ہی ہو لیکن کبھی اسے یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ ممکن ہے یہی مذہب نے تعلیم دی ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ بغیر کسی ارادہ اور بغیر کسی معین خیال کے اُس کے دل میں دین سے نفرت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے یا کم سے کم دین کی رغبت اس کے دل میں نہیں رہتی اور اس کی تمام ذمہ داری ان مردوں پر ہوتی ہے جو اپنے کرے نمونہ سے عورتوں کو دین سے متنفر کرنے کا موجب بنتے ہیں۔پس عورتوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ان کو علم دین سکھایا جائے اور انہیں وہ حقوق دئے جائیں جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ذمہ عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جیسے عورتوں پر مردوں کے کچھ حقوق ہیں۔پس عورتوں کو اُن کے جائز حقوق دئے جائیں اور اُن کے دلوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ شریعت نے اُن کے جو حقوق مقرر کئے ہیں مرد اُن کے دینے میں کبھی تامل سے کام نہیں لیتے۔اگر عورتوں کے ساتھ اس رنگ میں سلوک کیا جائے تو لازماً اُن کی تربیت بھی زیادہ عمدہ ہوگی۔اُن کے اندر بیداری پیدا ہو جائے گی اصل بیداری باہر سے نہیں آتی بلکہ اندر سے پیدا ہوتی ہے اور اندرونی طور پر قلب میں بیداری کا احساس اُس وانت پیدا ہوتا ہے جب سوچنے اور غور و فکر سے کام لینے کا مادہ ترقی کرے۔جب تک انسان کے اندر سوچنے کا یادہ نہ ہو۔اور جب تک اس کے اندر اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنے کا مادہ نہ ہو وہ ترقی نہیں کر سکتا ہے۔یہی