اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 342

342 کام کرنے کی طاقت نہیں تو ہر ایک عورت اپنے آپ کو نہیں بلکہ ساری نسل کو زندہ درگور کر رہی ہے جس طرح مرد ان کو زندہ درگور کیا کرتے تھے۔یہ وہ عورتیں ہیں جن کی آنکھیں تو کھلی ہیں لیکن دیکھتی نہیں۔اور سانس تو لے رہی ہیں مگر دل مردہ ہیں۔اس موت کے ذمہ دار سب سے پہلے ماں باپ ہیں جنہوں نے اُن کو جنا۔پھر اُن کی موت کے ذمہ دار بڑے بھائی بہن ہیں۔پھر اُن کی موت کے ذمہ دار خاوند ہیں۔پھر اُن کی موت کے ذمہ داران کے بیٹے ہیں۔ان سب نے مل کر انکو مار ڈالا۔اگر تمہارے اندر بیداری پیدا ہو جائے تو سمجھ لو کہ عقائد اور کاموں کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔صرف ایک کام ہے جس میں مرد اور عورت کا فرق ہے اور وہ جہاد ہے۔مگر اس میں عورت کو یہ اجازت دی گئی ہے، کہ وہ پانی پلا سکتی ہے، مرہم پٹی کر سکتی ہے اور زخمیوں کی خدمت کر سکتی ہے۔چنانچہ حضرت بلال کی بہن نے رسول کریم ہے سے جب اس بارہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا کام مرہم پٹی کرنا اور کھانا وغیرہ تیار کرنا ہے۔پھر حضرت رسول کریم ﷺ مال غنیمت میں بھی عورت اور مرد کو برابر حصہ دیا ہے۔صرف عورتوں کو لڑائی کے میدان سے الگ رکھا ہے جس میں حکمت یہ ہے کہ اُن کا پردہ قائم رہے۔اگر وہ بھی لڑائی میں شامل ہوں تو نتیجہ یہ ہو کہ دشمن انہیں قید کر کے لے جائے۔کیونکہ جب دو ملک آپس میں لڑتے ہیں تو لڑنے والوں میں سے کئی لوگوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ان کو جہاد سے الگ کر دیا۔اور مرہم پٹی کا کام اُن کے سپرد کر دیا۔اگر عورتیں لڑائی میں حصہ لیتیں تو لازماً اُن کو بھی قید کیا جاتا۔پس اُن کی عزت قائم رکھنے کے لئے انہیں لڑائی میں شامل ہونے سے روک دیا۔ورنہ دنیا میں ایسی ایسی عورتیں گزری ہیں جو بڑے بڑے جرنیلوں سے مقابلہ کرتی رہی ہیں۔مثلاً چاند بی بی نے بہت سے کارنامے دکھائے۔حضرت ضرار کی بہن نے بھی کئی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ایک دفعہ عیسائی لشکر کا بہت زیادہ دباؤ پڑا اتنا کہ مسلمانوں کے قدم اکھٹر گئے۔ضرار کی بہن نے ہندہ کو آواز دی کہ ہند و نکلو یہ مروانے کے قابل نہیں ہم لڑیں گی۔انہوں نے خیمے اُکھاڑ کر ڈنڈے ہاتھ میں لے لئے اور اُنکے گھوڑوں کو مارنے لگیں۔ابوسفیان نے اپنے بیٹے معاویہ سے کہا" ان عورتوں کی تلواریں عیسائیوں کی تلواروں سے زیادہ سخت ہیں۔میں مرنا پسند کروں گا لیکن پیچھے نہیں لوٹوں گا۔چنانچہ سب کے سب میدان جنگ میں لوٹ آئے۔تو عورت لڑ بھی سکتی ہے مگر جولڑے اُس کے قید ہونے کا بھی چونکہ احتمال ہوتا ہے اس لئے اسلام یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ مسلمان عورت غیر کے ہاں جائے۔