اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 341

341 صلى الله الله کریم ﷺ کے زمانہ میں سب سے پہلے ایمان لانے والی ایک عورت ہی تھی۔چنانچہ جب آنحضرت ﷺ کو پہلی مرتبہ الہام ہوا تو آپ بہت گھبر ائے اور اُم المومنین حضرت خدیجہ سے گھبراتے ہوئے کہا کہ میں یہ کام کس طرح کروں گا۔مجھے تو سخت فکر لگ گیا ہے۔حضرت خدیجہ نے جواب دیا كُلًّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِ يُكَ الله اَبَدًا۔خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کے سپر داتنا بڑا کام کرے اور آپ گوڑ سوا کر دے۔آپ مہمان نواز ہیں۔رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں وہ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔تو رسول کریم نے پر سب سے پہلے ایمان لانے والی ایک عورت ہی تھی۔فرض انبیاء جب کبھی کلام الہی لے کر آتے ہیں تو ان کے مخاطب عورتیں اور مرد یکساں ہوتے ہیں۔اسی طرح قضاء قدر کے مسائل ہیں ان میں بھی مرد اور عورت یکساں مخاطب ہوتے ہیں۔جزاء وسزا پر ایمان لانا بھی جس طرح مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں کے لئے ضروری ہے۔غرض عقیدوں کو دیکھ لو ایک عقیدہ بھی ایسا نہیں جو مردوں کے لئے ہو اور عورتوں کے لئے نہ ہو۔اس کے بعد ہم عمل کی طرف آتے ہیں۔تو ہمیں عمل میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا مثلا عمل میں نماز کا حکم ہے۔نماز کا حکم جیسا مردوں کے لئے ہے ویسا ہی عورتوں کو ہے۔وہی رکھتیں مردوں کے لئے ہیں اور وہی عورتوں کے لئے۔پھر ز کوۃ کا حکم ہے۔اس کا حکم بھی جیسا عورتوں کو دیا ویسا ہی مردوں کو۔۔۔۔روزوں کا حکم ہے اس میں بھی کوئی فرق نہیں۔حج میں بھی سب برابر ہیں۔صدقہ و خیرات کے حکم میں بھی دونوں برابر ہیں۔پس عقائد ایک سے ہیں اور اعمال ایک سے ہیں۔پھر اگر کوئی یہ کہے کہ عورتیں الگ جنس ہیں تو ہم کیسے مان سکتے ہیں۔تعجب ہے کہ وہ اسلام جو اس لئے آیا تھا کہ عورت کی عزت قائم کرے آج اُسی کو ماننے والی عورتیں اپنے آپ کو نالائق قرار دے کر اعلے دینی خدمات سے محروم ہورہی ہیں۔اسی طرح مرد بھی اس اہم فرض سے غافل ہیں۔گویا دونوں نسل انسانی کو ختم کر رہے ہیں اور اپنی ذلت و رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے وَإِذَ الْمَوْءُ وُدَةُ سُئِلَتْ۔یعنی عورت کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ اُسے زندہ کیوں گا ڑا گیا۔اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ عورت کی تباہی کی ذمہ دار صرف مردوں پر نہیں اور نہ صرف عورتوں پر بلکہ دونوں اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔آج جب قریبا ہر عورت یہ خیال کر رہی ہے کہ میرے اندر