اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 340
340 تمہارا نگران ہے۔پس یہ خیال غلط ہے کہ مرد کوئی اور چیز ہے اور عورت کوئی اور چیز۔جیسے مرد انسان ہے ویسے ہی عورت انسان ہے۔ہاں کاموں میں فرق ہے۔عورت بچہ جنتی ہے، بچے کی پرورش کرتی ہے، مرد روزی کماتا ہے اور بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔یہ کاموں کا جو فرق ہے اس سے میرے دل میں کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ بھی کوئی ایسی چیز ہے جو عورت کے درجہ کو کم کرنے والی ہو۔کاموں کے فرق مردوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔میں خلیفہ ہوں لیکن ہر مرد خلیفہ نہیں اور نہ میرے خلیفہ ہونے سے باقی احمدی مرد ہونے سے خارج ہو گئے۔قوموں کے فرق کی وجہ سے کوئی جنس بدل جاتی ہے؟ عام طور پر خاندان میں کوئی بچہ کلرک ، کوئی مدرس اور کوئی پٹواری ہوتا ہے، اور باپ کا کام اور ہوتا ہے، بیٹے کا اور۔اور پٹواری بھی مرد کہلاتا ہے، ڈاکٹر بھی مرد کہلاتا۔تجارت کر نیوالا بھی مرد کہلاتا ہے۔اسی طرح عورتوں میں دھوبن ، نائن ہوتی ہیں۔اب دھوبن بھی عورت ہے اور نائن بھی عورت۔یہ تو نہیں ہوتا کہ دھو بن اور نائن ہونے سے وہ عورت نہیں رہتیں۔اسی طرح ایک نوکر ہوتا ہے اور ایک آقا۔تو کاموں کے فرق کی وجہ سے جنس نہیں بدلتی۔مردوں کے پیشوں میں بھی فرق ہے اور عورتوں کے کاموں میں بھی فرق ہے۔وہ دونوں آدمی ہیں صرف کام الگ الگ ہیں۔یہ مسئلہ اگر عورتیں سمجھ لیں تو وہ اپنے حقوق کی خود ہی حفاظت کرنے لگ جائیں۔اگر ان کو یہ خیال ہو کہ ہم بھی آدمی ہیں اور مرد بھی انہیں آدمی سمجھنے لگ جائیں تو کسی کی طرف سے ایک دوسرے کے حقوق غصب نہ ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کاموں کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں میں فرق ہے لیکن خدا تعالیٰ نے عقائد میں کوئی فرق نہیں رکھا۔سب سے بڑا عقیدہ یہ ہے کہ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِ كُوا بِهِ شَيْئًا خدا تعالی پر ایمان لاؤ اور اُس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔اب کیا مردوں کو یہ حکم ہے عورتوں کو نہیں ؟ اسی طرح ملائکہ پر ایمان لانا ہے۔جس طرح مردوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے فرشتوں پر ایمان لاؤ اسی طرح عورتوں سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ فرشتوں پر ایمان لاؤ۔تیسری بات الہام یعنی اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا ہے۔نبیوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اے مردو اسی کام کرو بلکہ انہوں نے یہی کہا کہ اے مردو اور اسے عور تو ! یہ کام کرو۔پھر رسول کریم ﷺ جب تشریف لائے تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ اے مرد و اور عورتو! یہ کام کرو۔بلکہ رسول