اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 268
268 لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ جس استقلال کے ساتھ سیالکوٹ کی لجنہ نے کام کیا ہے وہ ہر ایک کے لئے نمونہ ہے۔عورتوں کی تعلیم سے مجھے اللہ تعالی اسکے فضل سے خاص دلچسپی ہے۔میں نے اس کی وجہ سے لوگوں کے اعتراضات بھی سنے ہیں اور اختلافی آراء بھی سنی ہیں لیکن پھر بھی پورے یقین کے ساتھ اس رائے پر قائم ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔جب جماعت احمدیہ کا انتظام میرے ہاتھ میں آیا اُس وقت قادیان میں عورتوں کا صرف پرائمری سکول تھا لیکن میں نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو قرآن کریم اور عربی کی تعلیم دی اور انہیں تحریک کی کہ مقامی عورتوں کو قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیث وغیرہ پڑھائیں میں نے اپنی ایک بیوی کو خصوصیت کے ساتھ اس کے لئے تیار کیا اور میرا خیال تھا کہ وہ اپنی تعلیمی ترقی کے ساتھ دوسری عورتوں کو فائدہ پہنچا ئیں گی لیکن خدا تعالے کی مشیت تھی کہ میرے سفر ولایت سے واپسی پر وہ فوت ہو گئیں اس پر میں نے سمجھا کہ صرف ایک عورت تیار کرنے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر وہ فوت ہو جائے تو دوسری کو تیار کرنے کے لئے چھ سات سال مزید عرصہ درکار ہو گا۔اس پر میں نے یہ انتظام کیا کہ طالبات چکوں کے پیچھے بیٹھ کر اُستادوں سے تعلیم حاصل کریں۔اس پر قادیان میں بھی اور باہر بھی اعتراض ہوئے کہ یہ اچھی تعلیم ہے کہ عورتوں کو مرد پڑھاتے ہیں لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی کیونکہ ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ضرورت کے موقع پر مرد عورت ایک دوسرے سے پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں۔خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحابیوں اور نو مسلموں کو رسول کریم ہے کلمات طیبات سکھاتی رہی ہیں اور ہماری عورتوں کی عزت رسول کریم کے زمانہ کی عورتوں کی عزت سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔اور جو فعل اُن کی عزت کے مطابق ہے اُس سے ہماری عزت میں فرق نہیں آسکتا۔پس میں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا یہاں تک کہ پچھلے سال عورتوں کی کافی تعداد نے مولوی کا امتحان پاس کر لیا۔گویا وہ ڈگری حاصل کی جو عربی میں ایف ائے کے برابر ہے۔اس کے ساتھ ہی میں نے پرائمری سکول کو مڈل تک پہنچا دیا۔اور چونکہ عربی کا امتحان دے کر انٹرنس پاس کیا جا سکتا ہے اس لئے مولوی پاس عورتوں نے اور کچھ با قاعدہ سکول میں پڑھانے والیوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے انٹرنس بھی پاس کر لیا اور اس سال سے قادیان میں عورتوں کے لئے کالج بھی جاری ہو چکا ہے امید ہے دو سال تک کئی عورتیں ایف۔اے پاس کر لیں گی اور