اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 267

267 اور اُن کی یہ عظیم الشان یادگار نہ صرف قائم رہے بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بڑھانے کی بھی توفیق دے۔واجِرُدَ عُوْنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِين خاکسار میرزامحمود احمد خلیلة امسیح الثانی احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی مورخہ یکم ستمبر ۱۹۳۱ ( اخبار مصباح) ۱۳ ستمبر بعد نماز عصر لجنہ اماءاللہ شہر سیالکوٹ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اعزاز میں ایک شان دار دعوت چائے دی جس میں شہر کے بعض معززین بھی مدعو تھے اس موقع پر حضور نے حسب ذیل مختصری تقریر فرمائی:۔میں سب سے پہلے اپنی ، اپنے ساتھیوں اور دوسرے مہمانوں کی طرف سے لجنہ اماءاللہ کا اس چائے کی دعوت کے لئے شکر یہ ادا کرتا ہوں۔دعوتیں دنیا میں ہوتی رہتی ہیں اور یہ ایک ایسا رواج ہو گیا ہے جو شاید اپنی کثرت کی وجہ سے بہت سی خوبصورتی کھو بیٹھتا ہے لیکن وہ دعوت جو جوش اور اخلاص کے نتیجہ میں ہو وہ دل کے لئے نہایت ہی مسرت کا موجب اور قلب کے لئے فرحت کا باعث ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو محبت اور تعلق بڑھانے کا ایک ذریعہ یہ بھی بتایا ہے کہ اگر توفیق ہو تو ایک دوسرے کی دعوت کرتے رہنا چاہیئے۔خود رسول کریم نے بھی لوگوں کو دعوت پر بلاتے تھے اور اس کو اتنی اہمیت دیتے کہ فرماتے دعوت کارڈ کرنا میری سُنت کے خلاف ہے۔اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ لجنہ کی یہ دعوت اخلاص اور اسی روح کے ساتھ ہے جو رسول کریم نے اپنی امت میں پیدا کرنا چاہتے تھے اس لئے میں اللہ تعالے سے دُعا کرتا ہوں کہ ان کھانوں کی قیمت کے مطابق نہیں بلکہ اس نیت کی قیمت کے مطابق ان سے فضل و برکت کا سلوک کرے۔سیالکوٹ کی لجنہ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے مجھے انہیں مخاطب کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن اُن کی محترم اور مخلص کارکن جو یہاں کی جماعت کے امیر کی اہلیہ ہیں کے بعض خطوط اور بیانات سے پتہ لگتا ہے کہ نہایت اعلے درجہ کا کام کرنے والی اور بہت ہی بات کے لئے نمونہ ہے۔بلکہ بسا اوقات مجھے سیالکوٹ کی لجنہ کے کام بتا کر مرکزی لجنہ کو شرمندہ کرنا پڑا ہے۔اگر چہ اس میں شک نہیں کہ مرکزی لجنہ کی نوعیت مختلف ہے