اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 269

269 میر افشاء ہے کہ اسی طرح کم از کم پندرہ سالہ عورتوں کو بی۔اے، ایم۔اے تک تعلیم دلائی جائے تا عورتیں خود دوسری عورتوں کو تعلیم دے سکیں۔مردوں کیلئے کالم قائم کرنے کی شرائط سخت ہیں۔یعنی جب تک ایک خاص رقم جمع نہ کی جائے اور عمارت تعمیر نہ ہو اس کی اجازت نہیں ہو سکتی۔لیکن عورتوں کے لئے ایسی شرائط نہیں اس لئے ہمیں ان کے لئے انتظام کرنے میں تھوڑے سے خرچ پر بہت سی سہولتیں مل سکتی ہیں اور جب قادیان میں ہی تعلیم دینے کے لئے تیار ہو جائیں تو میرا ارادہ ہے وہاں ہوٹل قائم کر کے باہر کی عورتوں کے لئے بھی وہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کر دیا جائے گا۔یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ سارے پنجاب میں مسلمانوں کا ایک بھی زنانہ کالج نہیں اور قادیان کا کالج پہلا زنانہ کالج ہے اور خدا کے فضل سے وہاں عورتوں کی تعلیم اس قدر زیادہ ہے کہ چند ماہ ہوئے میں علی گڑھ گیا تو مجھے بتایا گیا کہ صرف چار لڑکیوں نے انٹرنس کا امتحان دیا ہے لیکن قادیان میں پہلے ہی سال سولہ لڑکیوں نے امتحان دیا اور ہم نے اندازہ کیا کہ قادیان میں قریباً سو فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں گویا ان کی شرح لڑکوں سے بھی زیادہ ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری جماعت میں عورتوں کی تعلیم اس سرعت سے پھیل رہی ہے، خصوصاً قادیان میں انشاء اللہ بہت جلد عورتوں کی جہالت سے ہم بچ جائیں گے۔“ سیالکوٹ کی بجد نے جو کام جاری کیا ہے مجھے امید ہے ان کی کوشش سے یہاں بھی تعلیم کا خچر چا وسیع ہو جائے گا۔مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ یہاں کی احمدی مستورات نے اپنے حسن اخلاق سے دوسرے طبقوں میں بھی ایسی قبولیت حاصل کر لی ہے کہ سب کی لڑکیاں ان کے سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور کسی قسم کی Friction نہیں۔یہ ان کے کام کی روح کے متعلق ایک نباعت عمدہ شہادت ہے۔اگر مردوں میں نہیں تو کم از کم عورتوں میں اس روح کا پیدا ہونا کہ اسلامی کاموں کو مل کر کرنا چاہیے نہایت مسرت بخش ہے اور جب عورتوں میں یہ روح پیدا ہو جائے تو پھر مرد بھی متحدہ جدوجہد کیلئے مجبور ہو جائیں گے۔میں اس وقت زیادہ نہیں بول سکتا کیونکہ میں جب کبھی کسی شہر میں جاتا ہوں تو چونکہ میری صحت بھی خراب ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہم دیہات کے