اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 266
266 پس اپنے عمل سے یہ ثابت کرو کہ اگر دوسری قوموں کی عورتیں مذہبی اور قومی کاموں سے بے پرواہ اور غافل ہیں تو احمدی جماعت کی مستورات ایسی نہیں ہیں۔انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ دل وگردہ دیا ہے کہ ہر ایک آواز جو دین کی خدمت کے لئے اُٹھتی ہے وہ اس پر لبیک کہتی ہیں اور دین کی خدمت میں ان کے دل میں ملال نہیں پیدا ہوتا بلکہ ان کا دل اس خوشی سے بھر جاتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک کام کرنے کا موقع ملا۔چونکہ مسجد کی مرمت شروع ہو گئی ہے اور روپیہ کی فوری ضرورت ہے اس لئے ہر جگہ لجنہ اماءاللہ کو اور جس جگہ بجلد نہ ہو وہاں انجمن احمد یہ فورا عورتوں میں تحریک کر کے مسجد کی مرمت کا چندہ احمدی عورتوں سے جمع کرنا شروع کر دیں اور جس قدر چندہ ہو محاسب صاحب صدر انجمن احمد یہ کے نام پر ارسال کر دیں۔چونکہ ہر ایسی تحریک کے موقع پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کوئی شخص جو جماعت میں نہ ہو چندو دے تو اس سے چند ولے لیا جائے یا نہیں۔اس لئے میں اس سوال کا جواب بھی ابھی دے دیتا ہوں کہ گو تعمیر مسجد کے وقت میری ہدایت تھی کہ اس عمارت کو صرف احمدی خواتین کے روپیہ سے تیار کیا جائے لیکن اب جبکہ عمارت بن چکی ہے اور صرف مرمت اور حفاظت کا سوال ہے اگر کسی بہن کی کوئی سہیلی خوشی سے اس میں روپیہ دینے کے لئے تیار ہو تو شوق سے اس روپیہ کو قبول کر لیا جائے کیونکہ شاید اللہ تعالے اس امداد کے طفیل اس پر اپنے فضلوں کے دروازے کھول دے اور مزید برکتوں کا وارث کر دے۔میں ناظر صاحب بیت المال اور کل صوبائی ، اضلاعی یا مقامی انجمنوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ چونکہ ہماری عورتیں اس طرح ابھی منظم نہیں جس طرح کہ مرد ہیں اس لئے اس کا خاص انتظام کیا جائے کہ ہر جگہ تک یہ آواز آتی جائے اور مرد خواتین کو جمع کرنے اور ان تک یہ آواز پہنچانے کا ذمہ اپنے اوپر لیں اور کوشش کریں کہ کسی جگہ کی مستورات بھی اس کام میں حصہ لینے سے محروم نہ رہ جائیں۔وہ حصہ خواہ کم ہو یا زیادہ کیونکہ تھوڑا تھوڑا کر کے بھی بہت برکت ہو جاتی ہے۔نیز یہ مناسب نہیں کہ جماعت کا کوئی حصہ بھی ثواب کے کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہ جائے کہ یہ امر اس حصہ کے اخلاص کے جن مات کو ئند کر کے آخر سب جماعت پر مضر اثر ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ بہت جلد احمدی خواتین کو توفیق عطا فرمائے کہ اس ذمہ کی کہ ادا کر سکیں۔