اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 257

257 ایف اے کلاس کے افتتاح کے موقع پر حضور کی تقریر ۱۹۳۵ میں میں نے اس نیت سے کہ عورتوں کی تعلیم ایسے اصول پر ہو کہ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کی بھی تکمیل ہو سکے اور اس خیال سے کہ مذہبی تعلیم اپنے ساتھ دلچسپی اور دلکشی کے زیادہ سامان نہیں رکھتی اور بعد میں اس کا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے مذہبی تعلیم کو پہلے رکھا تا کہ ایک حد تک دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکیاں انگریزی تعلیم حاصل کر سکیں۔اور چونکہ اس سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے اس لئے یہ بڑی عمر میں بھی اگر حاصل کرنی پڑے تو گراں نہ گزرے گی لڑکیوں کے لئے پہلے عربی کلاسیں کھولیں۔اس وقت قادیان میں بھی ایسے لوگ تھے جو اس پر معترض تھے اور باہر بھی۔خاص کر پیغامی سیکشن نے بہت ہنسی اڑائی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلی مثال ہے کہ اس کثرت سے مولوی کا امتحان ہماری جماعت کی لڑکیوں نے پاس کیا۔میرا خیال ہے سارے ہندوستان میں اتنے عرصہ میں مولوی کا امتحان پاس کرنے والی اتنی لڑکیاں نہ ہوں گی جتنی ایک سال میں ہماری لڑکیوں نے یہ امتحان پاس کیا۔اس کے بعد چونکہ زنانہ سکول کی ہائی کلاسوں کی تعلیم پاسکتی تھیں اس لئے مدرسہ ہائی کے استادوں کی امداد سے ہائی کلاسیں کھولی گئیں ان میں بھی خدا کے فضل سے اچھی کامیابی ہوئی اور اس سال سات طالبات انٹرنس کے امتحان میں کامیاب ہوئیں۔یہ بھی اپنی ذات میں پہلی مثال ہے کیونکہ کسی سکول سے سات مسلمان لڑکیاں آج تک ایک سال میں کامیاب نہیں ہوئیں۔اور چونکہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ہم اپنی جماعت کو بھی تحریک کرتے رہتے ہیں اس لئے قادیان سے باہر بھی کئی لڑکیوں نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اچھے نمبروں پر پاس کیا ہے۔چنانچہ ایک احمدی لڑکی لڑکیوں کے مقابلہ میں سیکنڈ رہی اور لڑکوں کے مقابلہ میں اس کا ۳ اوان یا ۴ اواں نمبر ہے۔میرانشاء یہ ہے کہ اس تعلیم کو جاری رکھا جائے حتی کہ اتنی کثیر تعداد گر یجو یٹ خواتین کی پیدا ہو جائے کہ ہم سکول میں بھی زنانہ شاف رکھ سکیں اور کالج بھی قائم کر سکیں۔گورنمنٹ نے اب مردوں کے لئے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ وہ پرائیویٹ امتحان نہیں دے سکتے لیکن عورتوں کے لئے یہ شرما نہیں۔پیشتر اس کے کہ عورتوں کے لئے بھی پرائیویٹ امتحان نہ دینے کی شرط پنجاب یونیورسٹی عائد کر دے ہم اتنی تعداد پیدا کر لیں