اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 256

256 پچھلے دنوں باہر سے ایک نوجوان یہاں آیا ہوا تھا اس کا اپنی بیوی سے جھگڑا تھا۔اسنے مجھے لکھا کہ ایک بزرگ نے مجھے کہا اگر تمھارا کہنا نہیں مانتی تو ڈنڈا لے کر سیدھا کرو۔یہ پڑھ کر مجھے تو بہت شرم آئی کہ کس طرح ایسے شخص کو بزرگ سمجھ رہا ہے جو بیوی کو مارنے کی تلقین کرتا ہے۔بزرگی اسلام کی تعلیم جاری کرنے میں ہے نہ کہ ہو کرنے میں ممکن ہے کہ کوئی شخص بیوی کو مار کر چپ کرا دے مگر وہ بیوی کو نہیں اسلام کو مارتا ہے۔کیونکہ وہ عورت اور اس سے تعلق رکھنے والی دوسری عورتیں ایسے مذہب سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔پھر مارنے سے ممکن ہے اس کے گھر میں تو امن ہو جائے مگر وہ اسلام کے گھر کو اجاڑنے کی کوشش کرے گا۔پس وہ بزرگ کہلانے والے اگر اس وقت یہاں موجود ہوں وہ سن لیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں بزرگ نہیں بلکہ خورد۔سے بھی چھوٹے ہیں۔دنیا میں انصاف ، عدل اور رحم سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے جب تک یہ نہیں اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔فرض عورتوں کو تعلیم دینی چاہیئے۔اچھی تربیت بھی کرنی چاہیئے اور آزادی بھی جس حد تک اسلام نے اجازت دی ہے دینی چاہیئے۔بلکہ اسلام نے تو آزادی ہی دی ہے۔اس لئے کہنا چاہئے کہ جس حد تک اُس نے قید کا حکم دیا ہے اُس سے زیادہ کے لئے مردوں کو کوشش نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ جیسے دماغ ہمارے ہیں ویسے ہی عورتوں کے بھی ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کے عموماً اور باہر کی جماعتیں خصوصاً اس طرف متوجہ ہوں گی۔کئی کام ایسے ہیں جن میں مرکزی جماعت کو زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے اور کئی ایسے ہیں جن میں باہر کی جماعتوں کو زیادہ متوجہ ہونا ضروری ہے اور یہ بات زیادہ تر باہر کی جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے انہیں چاہیئے کہ عورتوں کو پردہ وغیرہ کے مسائل اچھی طرح سمجھا کر اور پوری طرح مطمئن کر کے ان کے ذریعہ خلاف اسلام باتوں کو دور کریں اور انہیں اسلام سے واقف و آگاہ کر کے کوشش کریں کہ وہ دوسری عورتوں سے مل کر انکے خیالات کی اصلاح کریں ورنہ اگر یہ تو زیادہ بڑھی تو اس کا مقابلہ مشکل ہوگا۔ابتداء میں جو کام آسانی سے ہو سکتا ہے بعد میں مشکل سے ہوتا ہے۔( مصباح یکم فروری ۱۹۳۱)