اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 258
258 جو کہ ہماری آئندہ نسلوں کو تعلیم دینے اور ہماری تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے جب تک عورتیں ہمارے کاموں میں شریک نہ ہوں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔زیادہ تر امور ایسے ہیں جن میں عورتوں کا سوال پیش آتا ہے۔اسی طرح تربیت اولا د کا سوال ہے جو عورتوں سے خاص طور پر تعلق رکھتا ہے۔اور یہ حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عور تیں تعلیم یافتہ نہ ہوں اور یہ کام اُن کے سپرد نہ کر دیا جائے۔کسی گھر میں کتنی ہی تعلیم یافتہ عورت ہو اور وہ بچوں کی کتنی ہی اعلے تربیت کرتی ہو اس میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اولاد پر ارد گرد کے بچوں کا بھی اثر پڑتا ہے اور تمام بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ کافی تعداد میں تعلیم یافتہ عورتیں مل جائیں۔اور چھوٹی عمر کے بچوں کے بورڈ نگ بنا کر اُن کا انتظام عورتوں کے سپرد کر دیا جائے تاکہ وہ ان میں بچپن میں ہی خاص اخلاق پیدا کریں اور پھر وہ بچے بڑے ہو کر دوسروں کے اخلاق کو اپنے اخلاق کے سانچے میں ڈھالیں۔بغیر ایسی اجتماعی جدو جہد کے کامیابی نہیں ہو سکتی۔نہ تقریروں سے نہ وعظوں سے نہ درس سے اس میں کامیابی کی یہی صورت ہے اور قومی کیریکٹر اسی طرح بن سکتا ہے کہ ایسے ہو مز قائم کئے جائیں اور جنہیں خدا تعالے توفیق دے وہ ان میں اپنے بچوں کو داخل کریں۔عورتیں ان کی نگران ہوں۔بچے چھوٹی عمر سے لے کرے۔۸ سال تک ان میں رہیں اور اس عرصہ میں اُن میں اعلے اخلاق پیدا کئے جائیں۔پھر یہ جماعت دوسروں کو اپنے رنگ میں ڈھالے۔یہ لڑ کے اور لڑکیاں جن کے لے۔۸ سال تک کی عمر میں ایک جگہ تربیت پانے میں کوئی حرج نہیں قوم کے لئے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔اگر ہم ایسے ہو مز قائم کر سکیں تو اس کے ذریعہ سے اخلاق پیدا کئے جاسکتے ہیں اور ایسی تربیت ہو سکتی ہے جو ہماری جماعت کو دوسروں سے بالکل ممتاز کردے۔مگر یہ بات بھی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کافی تعلیم یافتہ عورتیں نہ ہوں۔اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں زنانہ کالج مردانہ کالج سے بھی زیادہ اہم ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں مردانہ کالج کی ضرورت نہیں۔ضرورت ہے مگر اس کے متعلق سرکاری طور پر جو شرائکے ہیں وہ ہم ابھی پورے نہیں کر سکتے۔لیکن اگر ہم ان شرائط کو پورا کر سکیں تو بھی میرے نزدیک لڑکیوں کے لئے کالج ضروری ہے کیونکہ لڑکے تو باہر بھی رہ سکتے ہیں لیکن لڑکیوں کے لئے باہر رہنا مشکل ہے۔ان حالات کو مد نظر رکھ کر جیسا کہ ناظر صاحب نے بیان کیا ہے بے سروسامانی کی حالت میں کام شروع کیا جارہا ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ ہائی سکول کے اساتذہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق جیسے پہلے محنت کی ہے آپ بھی کریں