اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 19

19 عورت آئی اور آپ کے سامنے بہت روئی کہ میرا بیٹا عیسائی ہو گیا ہے آپ دعا کریں کہ وہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے پھر خواہ مر ہی جائے۔لڑکا عیسائیوں کا سکھایا پڑھایا تھا با وجود بخار چڑھے ہونے کے بھاگ گیا اُس کی ماں بھی اُس کے پیچھے بھاگی اور پھر پکڑ کر لے آئی۔حضرت مسیح موعود نے اُسے سمجھایا اور کچھ دن کے بعد اُسے سمجھ آگئی اور مسلمان ہو گیا۔مسلمان ہونے کے دوسرے تیسرے دن اُس کی جان نکل گئی اور اس پر ماں نے کچھ غم نہ کیا۔تو آپ بھی ایسی عورتیں ہیں گوشاذ ہیں جو ایمان کے مقابلہ میں کسی چیز کی پروا نہیں کرتیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر خاوند عیسائی ہو جائے تو بیوی بھی عیسائی ہو جاتی ہے اور جو مذ ہب اُس کے خاوند کا ہو وہی اُس کا ہوتا ہے۔مگر ایسی بھی عورتیں ہیں جو جان دینا تو پسند کرتی ہیں مگر اسلام چھوڑ نا گوارہ نہیں کرتیں۔لیکن ایسی کون عورتیں ہوتی ہیں؟ وہی جو مذ ہب کو سمجھ کر قبول کرتی ہیں اور اُس سے پوری پوری واقعیت پیدا کرتی ہیں۔عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے پس سب سے ضروری بات یہ ہے کہ عورتیں مذہب سے واقف ہوں ، مذہب سے اُن کا تعلق ہو، مذہب سے انہیں محبت ہو ، مذہب سے انہیں پیار ہو، جب اُن میں یہ بات پیدا ہو جائے گی تو وہ خود بخود اس پر عمل کریں گی اور دوسری عورتوں کے لئے نمونہ بن کر دکھا ئیں گی اور اُن میں اشاعت اسلام کا ذریعہ بنیں گی۔ہاں انہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح مرد مردوں کو دین سکھا سکتے ہیں اسی طرح عورتیں عورتوں کو سکھا سکتی ہیں۔اس کے ثبوت میں کہ عورتیں دین کی خدمت کر سکتی ہیں میں نے مثالیں پیش کی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ عورتیں بھی دین کی خدمت کرتی رہی ہیں۔پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ کچھ عورتوں نے ایسا کیا ہے تو معلوم ہوا کہ اور بھی کر سکتی ہیں۔پہلے زمانہ کی عورتوں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ بڑی پارسا اور پر ہیز گار تھیں ہم اُن جیسے کام کہاں کر سکتی ہیں کم حوصلگی اور کم ہمتی ہے۔بہت عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ کیا ہم عائشہ بن سکتی ہیں کہ کچھ کوشش کریں۔انہیں خیال کرنا چاہیے کہ عائشہ کس طرح عائشہ نہیں۔انہوں نے کوشش کی ، ہمت دکھائی تو عائشہ بن گئیں۔اب بھی اُن جیسا بننے کے لئے ہمت اور کوشش کی ضرورت سے بغیر کچھ کئے ہمت ہار دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک بچہ کو نصیحت کی جائے کہ تعلیم حاصل کر لو تو فلاں کی طرح ایم۔اے ہو جاؤ گے لیکن وہ کہے میں کہاں فلاں کی طرح ایم۔اے