اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 20
20 ہو سکتا ہوں اسلئے تعلیم ہی حاصل نہیں کرتا۔اُس نے کوشش کی تھی اس لئے ایم اے ہو گیا۔پھر کیا وجہ ہے کہ یہ بھی کوشش کرے تو ایم۔اے نہ ہو جائے۔صحابہ نے کس طرح درجے حاصل کئے ؟ دیکھو صحابی کس طرح رسول کریم منانے کے صحابہ بنے اور کس طرح انہوں نے بڑے بڑے درجے حاصل کئے۔اسیطرح کہ کوشش کی۔ورنہ یہ وہی لوگ تھے جو رسول کریم لے کے جانی دشمن تھے اور آپ کو گالیاں دیتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو آنحضرت علیہ کے بعد دوسرے خلیفہ ہوئے ہیں ابتداء میں آنحضرت ﷺ کے ایسے سخت دشمن تھے کہ آپ کو قتل کرنے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔راستہ میں ایک شخص ملا جس نے پو چھا کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا محمد (ع) الله کو قتل کرنے جاتا ہوں۔اُس نے کہا پہلے اپنی بہن اور بہنوئی کو تو قتل کر لو جو مسلمان ہو گئے ہیں پھر محمد (صلعم) کو مارنا۔یہ سنکر وہ غصہ سے بھر گئے اور اپنی بہن کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔آگے جا کر دیکھا تو دروازہ بند تھا اور ایک شخص قرآن کریم سنارہا تھا اور اُن کی بہن اور بہنوئی سن رہے تھے۔اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔حضرت عمر نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو۔اُن کی آواز سُن کر اندر والوں کو ڈر پیدا ہوا کہ مار دیں گے اس لئے انہوں نے دروازہ نہ کھولا۔حضرت عمر نے کہا اگر دروازہ نہ کھولو گے تو میں تو ڑ دونگا۔اس پر قرآن کریم سنانے والے مسلمان کو چھپا دیا اور بہنوئی بھی چھپ گیا۔صرف بہن نے سامنے آکر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ نے پوچھا بتاؤ کیا کر رہے تھے اور کون شخص تھا جو کچھ پڑھ رہا تھا ؟ انہوں نے ڈر کے مارے ٹالنا چاہا۔حضرت عمر نے کہا جو پڑھ رہے تھے مجھے سُناؤ۔اُن کی بہن نے کہا آپ اس کی بے ادبی کریں گے اس لئے خواہ ہمیں جان سے ماردیں ہم نہیں سنائیں گے۔انہوں نے کہا نہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ بے ادبی نہیں کرونگا۔اس پر انہوں نے قرآن کریم سنایا جسے سنگر حضرت عمر رو پڑے اور دوڑے دوڑے۔سول کریم ہے کے پاس گئے۔تلوار ہاتھ میں ہی تھی۔رسول کریم نے نے انہیں دیکھ کر کہا عمر یہ بات کب تک می آید سنکر وہ رو پڑے اور کہا میں نکلا تو آپ کے مارنے کے لئے تھا لیکن خود شکار ہو گیا ہوں۔تو پہلے یہ حالت تھی جس سے انہوں نے ترقی کی۔پھر یہی صحابی تھے جو پہلے شراب پیا کرتے تھے ، آپس میں لڑا کرتے تھے اور کئی قسم کی کمزوریاں اُن میں پائی جاتی تھیں لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو قبول کیا اور دین کے لئے ہمت اور کوشش سے کام لیا تو نہ صرف خود ہی اعلی درجے پر پہنچ گئے بلکہ دوسروں کو بھی اعلے مقام پر پہنچانے کا