اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 237

237 مجلس مشاورت میں عورتوں کا حق نمائندگی مورخہ ۲۸ دسمبر ۱۹۲۹ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر بعض اہم امور کے متعلق تقریر فرماتے ہوئے حضور نے مجلس مشاورت میں عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق فرمایا:۔ایک اور مسئلہ جس نے ہماری جماعت میں بہت شور برپا کر دیا ہے وہ مجلس مشاورت میں عورتوں کے حقوق کا مسئلہ ہے۔میں نے مجلس مشاورت میں سوال پیش کیا تھا کہ عورتوں کو حق نمائندگی ملنا چاہیئے یا نہیں۔کسی مسئلہ کے متعلق اتنا جوش، جوش نہیں بلکہ دیوانگی نہیں پیدا ہوئی جتنی اس بارے میں پیدا ہوئی ہے، عورتوں ہیں تو کمٹر ور مگر معلوم ہوتا ہے اُن میں مردوں کو بہادر بنانے کا خاص ملکہ ہے، بعض دوستوں میں اتنا جوش پایا جاتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اگر عورتوں کو حق نمائندگی مل گیا تو اسلام مُردہ ہو جائے گا اس کے مقابلہ میں دوسرے فریق میں جوش نہیں دیکھا گیا لیکن عورتوں میں جوش ہے۔الفضل میں ایک مضمون ان کے حق نمائندگی کے خلاف جب چھپا تو لجنہ کی طرف سے میرے پاس شکایت آئی کہ اب ہم کیا کریں۔جامعہ احمدیہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی اور وہاں حق نمائندگی کے مخالفین کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔میں نے کہا تم بھی میٹنگ کرو جس میں اس مسئلہ پر بحث کرو کہ مردوں کا مجلس مشاورت میں حق نمائندگی ہے یا نہیں اور پھر فیصلہ کر دو کہ نہیں۔جامعہ احمدیہ میں تو بچوں کے مضامین کا فیصلہ کیا گیا ہے نہ کہ حق نمائندگی کا۔اگر چہ یہ معمولی سوال نہیں ہے اس میں غلطی بہت خطرناک ہو سکتی ہے تا ہم ایسا اہم بھی نہیں ہے کہ اگر عورتوں کو حق نمائندگی دے دیا جائے تو اسلام کو مردہ قرار دینا پڑے۔بے شک یہ سوال بہت اہم ہے مگر اس کا شریعت سے تعلق نہیں۔شریعت سے ثابت ہے کہ رسول کریم اللہ نے مرد سے بھی مشورہ لیا اور عورت سے بھی۔باقی رہا یہ کہ کس طریق سے مشورہ لینا چاہئے یہ نہ مردوں کے متعلق بتایا نہ عورتوں کے متعلق۔یہ بات عورتوں کو حق نمائندگی نہ ملنے کا کوئی بڑے سے بڑا مد بھی ثابت نہیں کر سکتا۔شریعت نے کہا ہے مشورہ کرو۔آگے یہ کہ کس طریق سے کیا جائے یہ ہم پر چھوڑ دیا کہ زمانہ کے حالات کے مطابق جس طرح مناسب ہو کر و۔اگر رسول کریم ﷺ کے وقت اس طرح مشورہ کیا جاتا کہ شام ، یمن ، حلب وغیرہ علاقوں کے نمائندے آتے اور مشورہ میں شریک ہوتے تو ہوسکتا تھا مدینہ میں مشورہ ہی ہو رہا ہوتا اور پیچھے حملہ ہو جاتا اس لئے رسول کریم ﷺ کا یہ طریق تھا کہ نماز کے لئے