اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 238

238 لوگوں کو جمع کرتے اور پھر مشورہ کر لیتے۔بعد میں اس طریق کو بدلنا پڑا۔پس طریق مشورہ بدلا جاسکتا ہے کیونکہ یہ شریعت میں موجود نہیں یہ ہم نے حالات کے مطابق خود مقرر کرنا ہے اس میں اگر غلطی کریں گے تو نقصان اٹھا ئیں گے مگر شریعت دفن نہ ہو گی وہ زندہ ہی رہے گی۔یہ بات ہماری جماعت کے لوگوں کو اچھی طرح یا درکھنی چاہیئے کہ آج وہ زمانہ نہیں کہ کھڑے ہو کر کہہ دیا جائے عورتیں ناقصات العقل ہیں اور اس کے یہ معنے کر لئے جائیں کہ عورتوں میں کوئی معقل نہیں یہ معنے خود رسول کریم ﷺ کے عمل اور آپ کے بعد کے عمل سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔اگر اس کے یہی معنی ہیں جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں تو رسول کریم ﷺ نے اہم مسلمہ سے کیوں مشورہ لیا۔اگر عورتیں ناقصات اعتقل ہوتی مہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایسی عورتیں بھی ہوئی ہیں جنہوں نے کامل اعقل مردوں کو عقل کے بارے میں شکست دی اور ان کے پایہ کے مرد نہیں ملتے۔میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پیش کرتا ہوں۔قرآن کریم میں خاتم النبین کے الفاظ آئے تھے اُدھر حدیثوں میں لائی بعد می کے الفاظ موجود تھے۔جوں جوں زمانہ نبوت سے بعد ہوتا جاتا ان سے یہ نتیجہ نکالا جاتا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس خطرے کے انسداد کے لئے کسی مرد کو توفیق نہ ملی سوائے حضرت علی یا ایک اور کے۔مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دھڑلے سے فرماتی ہیں۔قولوا انه خاتم الانبياء وَلَا تَقُولُو الانبي بعده، تو کہو کہ رسول کریم اللہ خاتم العین ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔اب دیکھ لو اس زمانہ کے مامور نے کس کی تصدیق کی۔اُن کی جنہیں ناقصات اعقل کہا جاتا ہے یا اُن کی جو کامل العقل کہلاتے تھے۔اگر اس وقت وہ یہ کہتیں کہ میں جسے ناقصات العقل میں شامل کیا جاتا ہے کیوں بولوں تو آج اس بارے میں کس قدر مشکلات پیش آتیں اور ہم کتنے میدانوں میں شکست کھاتے۔جب ہم خاتم انیمین کے یہ معنے پیش کرتے کہ رسول کریم ہے کے بعد آپ کی است میں سے آپ کی غلامی میں نبی آسکتا ہے تو کہا جاتا پہلے کسی نے یہ معنے کیوں نہ سمجھے۔اب جب یہ کہا جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں دیکھو رسول کریم ﷺ کی بیوی نے یہی معنے سمجھے تھے۔در اصل ناقصات العقل نسبتی امر ہے کہ مرد کے مقابلہ میں عورت کم عقل رکھتی ہے یعنی کامل سے کامل مرد سے کامل سے کامل عورت عقل میں کم ہوگی اور دوسرے درجہ کے مرد ہے دوسرے درجہ کی عورت کم ہوگی۔اور اس سے کوئی انکار نہیں کرتا۔بعض باتیں مردوں سے تعلق رکھنے والی ایسی ہیں جن میں عورتوں کو پیچھے رہنا پڑتا