اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 236
236 ہیں اور نہ حرکت سے معذور اور نہ حرکت کرتے وقت گرتے نہ زخمی ہوتے ہیں بلکہ حرکت بھی کرتے ہیں اور نقصان سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ہاں تو یا درکھو کہ عورتیں عورتوں کو اچھی طرح نصیحت کر سکتی ہیں اس لئے لجنہ کا ہونا ضروری ہے۔انہیں عورتوں کی ضرورت کا علم ہوگا اور اس علم کے ماتحت اُن کی باتوں کا اُن پر زیادہ گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔لجنہ کے فرائض :۔مجد کے یہ یہ فرائض ہونے چاہئیں۔اول دیکھیں کہ اُن کے حلقہ کی ساری احمدی عورتوں کو کلمہ اور نما ز آگئی ہے یا نہیں۔اس کے متعلق وہ ہر سال امتحان لیں اور رپوٹ بھیجیں اس کام میں غفلت نہ ہو۔دوم یہ کہ تبلیغ کریں۔ہر ہر جگہ جلسہ کر کے عورتوں کو بلائیں۔لجنہ کو اس کی طرف جلد اور فوراً توجہ کرنی چاہیئے۔غیر احمدی عورتوں کو جب تبلیغ کی جائے گی اور ان کی اصلاح ہو جائے گی تو وہ اپنے مردوں کو بھی مجبور کریں گی کہ وہ احمدیت کو قبول کریں۔تیسرا کام چندے کا انتظام ہے چندہ اس لئے نہیں ہوتا کہ اس سے ضروریات پوری ہوں گی۔خدا کے کام رکے نہیں رہے بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے ایمان پختہ ہو۔دیکھو دنیا میں بہت سے خزانے مدفون ہیں اگر خدا چاہے تو وہ اپنے نیک بندوں کو جہاں ہزار ہا غیب کے علم سے مطلع کرتا ہے وہاں انہیں یہ بھی بتا سکتا ہے کہ فلاح جگہ خزانہ مدفون ہے اُسے دینی ضروریات پر صرف کرو۔اللہ تعالیٰ نے بارہا مجھے غیب کی خبریں بتائی ہیں وہ یہ بھی بتا سکتا تھا۔مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہارے ایمان پختہ ہوں اور تم میں زندگی کی رُوح پیدا ہو۔رسول کریم نے نے ایک شخص سے زکوۃ طلب کی اُس نے دینے میں عذر کیا۔آپ نے ممانعت کر دی کہ آئندہ اس سے زکو آ نہ لی جائے۔اس کے بعد وہ بے شمار اونٹ اور بکریاں لاتا اس سے قبول نہ کئے جاتے اور وہ روتا ہوا واپس جاتا۔چندے میں زیادہ کی شرط نہیں صرف نیت نیک ہونی چاہیئے تم اپنے ایمانوں میں ترقی کرو اور جہاں جہاں اب تک لجنہ قائم نہیں ہوئی وہاں لجنہ قائم کرو اور اپنے حقوق خود حاصل کرو۔جو حقوق لینے کھڑا ہوتا ہے خدا اس کے حقوق خود دلاتا ہے۔نیند سے جاگو، دین کی خدمت کرو تا مردوں کی طرح تم پر بھی خدا کی برکات نازل ہوں اور خدا کے حضور اُن افضال کی مالک بنو جن کا تمہارے آباء واجداد کو وارث بنایا گیا۔از مصباح ۱۵ جنوری ۱۹۳۰ء)