اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 214
214 غرض غلط استعمال نے نقائص پیدا کر دیئے ہیں اس کی اصلاح ہونی چاہیئے۔عورتوں کو اسلام نے جس حد تک آزادی دی ہے وہ دینی چاہیئے۔مثلا وہ باہر نکلیں ، کاموں میں حصہ لیں، مجلسوں میں شریک ہوں ،مگر اسی طریق سے جو اسلام نے بتایا ہے اور جس پر عمل ہوتا رہا ہے۔یہاں اب اس قدر تو ہو گیا ہے کہ پردہ قائم رکھتے ہوئے ایڈریس پڑھے جاتے ہیں۔بے پردہ مسلمان عورتیں بھی ابھی اس قدر جرات نہیں کر سکتیں تو عورتوں کو اس حد تک آزادی دینی چاہئے جو اسلام نے انہیں دی ہے اور وہی ان کے لئے بہترین اور مفید آزادی ہے اس سے آگے انہیں قدم نہیں بڑھانا چاہیے۔میں اس بُرقعہ کو پسند کرتا ہوں جو نئی طرز کا نکلا ہے۔اس میں عورت زیادہ آزادی سے چل پھر سکتی ہے مگر بعض نے اس کا بھی غلط استعمال شروع کر دیا ہے۔انہوں نے اسے کوٹ بنا لیا ہے جس سے جسم کی بناوٹ نظر آتی ہے اس طرح یہ نا جائز ہو گیا ہے۔شریعت نے جلباب کا کیوں حکم دیا ہے، کیوں کر تہ ہی نہیں رہنے دیا، اس لئے کہ جسم کی بناوٹ ظاہر نہ ہو۔ڈھیلا ڈھالا کپڑا اوڑھا جائے۔اب اس غلط استعمال سے اس بُرقعہ کو برانہیں کہا جائے گا مگر جو نقص ہوا ہے اسے دور کرتا چاہیئے۔پس ضرورت ہے نقائص کی اصلاح کی کسی بات کی اندھا دھند تقلید نہ کی جائے۔اسلام وہ ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی اس لئے مسلمانوں کو نہ ایشیا کی نقل کرنی چاہئے نہ مغرب کی۔اس لئے کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو نہ یہ کہ ایشیا میں چونکہ پر دو رائج ہے اس لئے جس طرح کا رائج ہے اس کو جاری رکھنا چاہیے نہ یہ کہ یورپ چونکہ پردہ نہیں کرتا اس لئے ہمیں بھی نہیں کرنا چاہئے بلکہ افراط تفریط سے بیچ کر صیح راستہ پر چلنا چاہئے۔از الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۲۸ جلد ۶ انمبر ۴۷) تقریر لایه ای را بر موقع جله سالانه ستورات به ۱۹ حضرت ۱۹۲۸ حضور نے تشہد اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالے کا بڑا فضل ہے کہ اس نے مجھے آج بولنے کی توفیق دی ہے۔بیماری کی وجہ سے میری آواز اگر کسی تک نہ پہنچ سکے تو اٹھ کر چلی نہ جائے تو اب تو نیت پر موقوف ہے۔اگر آواز سننے کی نیت سے بیٹھے گی تو پہنچ جائے گی ورنہ نیت ہو گی تو ثواب تو مل ہی جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے اجتماع