اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 215
215 ہوتے ہیں ، لاکھوں بلکہ کرڑوں آدمی ہر سال مکہ معظمہ میں جاتے ہیں، حج کر کے واپس آ جاتے ہیں۔بعض طواف کر کے ہی واپس آ جاتے ہیں اور بعض عمرہ کر کے ہی واپس آ جاتے ہیں، حج کا انہیں موقع نہیں ملتا مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے حج کو ایک بہت بڑی تقریب قرار دیا ہے وہاں نہ کوئی تقریر ہوتی ہے، نہ کوئی لیکچر ہوتا ہے، نہ کوئی وعظ ہوتا ہے، صرف ایک خطبہ ہوتا ہے جس کو صرف چند سو آدمی ہی سن سکتے ہیں۔خدا تعالے نے اس تقریب حج کو بہت بڑی عزت دی ہے۔کئی آدمی باتیں ہی کر کے آ جاتے ہیں لیکن اس کوسب عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کا ادب کرتے ہیں اور وہ حاجی صاحب ہی کہلاتا ہے۔صرف اس وجہ سے کہ اس نے خدا کی راہ میں سفر اختیار کیا اور خدا کے لئے تکلیفیں اٹھا ئیں۔غرض خدا کی راہ میں سفر کرنا ہی ثواب ہے۔ہر وہ شخص جو پاک ارادہ سے اس مقام کو جاتا ہے جہاں خدا تعالے کا جلال ظاہر ہوا ہو دو اس کے خاص فضلوں کا وارث ہو کر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو قربانیوں کو دیکھتا ہے لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَا لُهُ التَّقْوَى مِنكُمُ۔اس کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا اس کو تو نیت اور ارادہ کی ضرورت ہے۔پس ہر عمل جو انسان کرتا ہے اس میں نیکی کرتا ہے یا نیکی کی تڑپ رکھتا ہے، تقویٰ کرتا ہے اور وہ خدا تعالی کی طرف مائل ہوتا ہے وہ ضائع نہیں جاتا۔ایک آدمی اگر ساری ساری رات میں پڑھتا ہے لیکن ہمسائے کو اس کا کیا فائدہ ہے۔وہ کیا جانتے ہیں یہ شخص تمام رات نماز پڑھتا ہے۔ہندوؤں میں ہم نے دیکھا ہے بعض ساری ساری رات جاگتے رہتے ہیں اور بعض تو خوراک چھوڑ کر معمولی ساگ پات پر گزارہ کرتے ہیں لیکن با وجود اس کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں۔پس یاد رکھو ایمان ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالے کا مقرب بناتی ہے۔نیک نیت اور ایمان سے اگر یہاں بھی بیٹھو تو قادیان آنا با برکت ہوگا۔رسول کریم نے ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ جگہ کم تھی۔تین آدمی آئے اُن میں سے ایک نے جگہ کی تلاش کی اور آنحضرت ﷺ کے قریب بیٹھ گیا۔دوسرے نے تلاش کی اور درمیان رستے ہی میں بیٹھ گیا۔تیسرے نے ہجوم دیکھا جگہ نہ تلاش کی واپس لوٹ گیا۔خدا تعالے نے فرمایا پہلے نے جگہ تلاش کی اور بیٹھ گیا اُسے زیادہ اجر ملے گا اور جو درمیان میں بیٹھ رہا اُس کے لئے بھی اجر ہے لیکن جو جگہ نہ تلاش کرنے کی وجہ سے چلا گیا اُس کو میں بھی جزاء نہ دوں گا۔