اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 213
213 جائیں گے۔کچھ گورنمنٹ کی طرف سے ایڈیل جائے گی ، کچھ اور چندہ جمع ہو جائے گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم ۱۹۲۹ میں اس کی بنیادر کھنے کے قابل ہو جائیں گے۔اور لجنہ کی ممبر جو عورتیں تعلیم پارہی ہیں وہ سکول کی تعلیم میں تو مدد دیں گی اگر فی الحال تربیت میں مدد نہ دے سکیں۔میرے نزدیک ہمیں زیادہ توجہ جس طرف دینی چاہیئے وہ تعلیم ہے، اور وہ بھی مذہبی تعلیم۔یہی تعلیم ہماری اولاد کے ہوش و حواس قائم رکھ سکتی ہے۔میں تو نو جوانوں کی موجودہ رو کو دیکھ کر ایسا بد دل ہوں کہ چاہتا ہوں یورپ کی ہر چیز کو بدل دیا جائے۔ہمارے ملک کے لوگ اس طرح دیوانہ وار یورپ کی تقلید کر رہے ہیں کہ اسے دیکھ کر شرم و ندامت سے سر جھک جاتا ہے۔آج درد صاحب نے کہا ہے کہ یورپ جن باتوں کو تنگ آ کر چھوڑ رہا ہے ہمارے ملک کے لوگ اُن کی بڑی خوشی اور شوق سے نقل کر رہے ہیں مگر میں دس سال سے کہہ رہا ہوں کہ جن باتوں کے خلاف خود یورپ آواز اُٹھا رہا ہے انہیں ہمارے ملک کے لوگ ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔وہاں سود کے خلاف شور برپا ہے مگر یہاں اُسے رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اسی طرح وہاں کے لوگ شراب کی بندش پر زور دے رہے ہیں لیکن یہاں اس کا خاص شوق ظاہر کیا جاتا ہے۔غرض یورپ کی تقلید میں لوگ بالکل اندھے ہو رہے ہیں۔ہمیں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی بچانے کے لئے یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ لوگوں کو محسوس کرائیں ہمارا تمدن ناقص اور کمز ور نہیں۔نقص یہ ہے کہ اس کا استعمال درست طور پر نہیں کیا گیا۔دیکھو ایک رنگ ایک خاص حد تک اچھا لگتا ہے۔مثلا تصویر میں ایک حد تک نیلا یا کالا رنگ استعمال کرتے ہیں اور آسمان کا نظارہ نظر آتا ہے لیکن اگر نیلے یا سیا ور تنگ کی بوتل اُنڈیل دی جائے تو اس سے خوبصورتی نہ پیدا ہوگی بلکہ بد صورتی ہو جائے گی۔اسی طرح تصویر میں سفید رنگ سے بادل دکھائے جاتے ہیں لیکن اگر کاغذ پر کوئی قلعی پھیر لے تو یہ اس کی نادانی ہوگی۔پس ہم نے اپنے تمدن کو غلط طور پر استعمال کر کے نقائص پیدا کر لئے ہیں ورنہ اس میں نقص نہیں۔مثلا عورتوں کا پردہ ہے اس کے لئے خود رسول کریم ﷺ نے جہاں تک عورتوں کے لئے آزادی رکھی ہے اس پر اگر کوئی عمل کرے تو اس کے خلاف ایک شور برپا ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی سوار ار ہا ہو اور عورت پیدل چل رہی ہو تو اسے اپنی پیٹھ پیچھے بٹھا لے۔اب اگر کوئی اس طرح کرے تو کتنا شور پڑ جائے حالانکہ رسول کریم میں اللہ نے اسے صدقہ کتنی قرار دیا ہے اور مرد کی ذمہ داری فرمائی ہے۔