اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 210

210 صورت میں برداشت نہیں کرتے۔ہماری جماعت کی عورتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے کام کر سکتی ہیں جیسا کہ سیالکوٹ کی احمدی مستورات کے کام سے ظاہر ہے جو ایک کامیاب گرلز سکول چلا رہی ہیں۔اسی طرح لا ہور اور امرتسر میں باوجود مخالفت کے ان کا سترہ جون کے جلسوں کے کام کو چلانا بھی اُن کی بڑھی ہوئی ہمت کو ظاہر کرتا ہے۔چاہیئے کہ ہر جگہ کی احمدی مستورات جلد سے جلد جلسے کر کے اس رقم کو جمع کرنے کی کوشش کریں اور جلد سے جلد اس رقم کو بھیجواد ہیں تا کہ کام شروع کیا جاسکے۔جہاں لجنہ نہیں یا جہاں مستورات کے جمع ہونے کا دستور نہیں وہاں مرد سیکرٹریوں کو چاہئے کہ عورتوں کے اجتماع کے لئے آسانیاں بہم پہنچا ئیں اور اس طرح بالواسطہ طور پر خود بھی شریک ثواب ہوں۔میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ عورتوں کو چاہیئے کہ یہ چندہ اپنے پاس سے ہی دیں خواہ نقدی کی صورت میں خواہ زیور کی صورت میں، اور مردوں سے ہرگز اس چندہ کے لئے کچھ طلب نہ کریں۔اگر ان کے پاس کم رقم ہے تو اس سے شرما ئیں نہیں کہ اللہ تعالے دلوں کو دیکھتا ہے نہ کہ رقموں کو۔وہ اخلاص سے کام کریں تو اللہ تعالے اس امر کی توفیق دے گا کہ ان کا مجموعی چندہ اس سے زیادہ ہو جائے جتنا کہ اُن سے مانگا گیا ہے اور انہیں آئندہ نسلوں کے لئے نمونہ بنا کر ہمیشہ کی رحمتوں کا وارث بنا دیگا۔میں یہ بھی ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ مسجد برلن کی تحریک کے وقت بعض غیر احمدی عورتیں بھی چندہ میں شامل ہونا چاہتی تھیں لیکن چونکہ اس وقت شرط تھی کہ صرف احمدی عورتوں کا چندہ ہو اس لئے اس کی اجازت نہ دی گئی تھی حتی کہ بعض عورتوں نے اس وجہ سے احمدیت بھی قبول کر لی۔چونکہ وہ ایک مستقل کام تھا اُس وقت یہ شرط کر دی گئی تھی کہ صرف احمدی عورتوں کا چندہ ہو لیکن اس وقت چونکہ عام تبلیغی امراض کے لئے چندہ ہو رہا ہے اس لئے اس شرط کی ضرورت نہیں۔اگر کوئی بہن اپنی خوشی سے اس چندہ میں حصہ لینا چاہیں تو اُن کا چندہ بھی خوشی کے ساتھ قبول کر لینا چاہیئے۔چونکہ کام کا فورا شروع کیا جانا ضروری ہے اس لئے ایک دفعہ پھر میں جلدی کی تاکید کرتا ہوں۔خاکسار مرز امحمود احمد خلیفہ ایسیح - ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۸