اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 209
209 لئے میں نے تجویز کیا ہے کہ ایک مبلغ وہاں اور بڑھا دیا جائے اور اس دفعہ ایک نیا تجربہ کیا جائے کہ بجائے ہندوستان سے بھیجنے کے نیا مبلغ خود انگلستان کے نومسلموں میں سے ہو جس میں میرے نز و یک کئی فائدے ہیں۔ایک تو انگریزوں میں بعض لوگ اسلام کے زیادہ گہرے واقف ہو جائیں گے۔دوسرے انسان اپنی قوم کے خیالات کو چونکہ زیادہ سمجھتا ہے لہذا ان کے ذریعہ تبلیغ میں آسانی ہوگی۔پہلے میرا ارادہ یہ تھا کہ ایک انگریز کو یہاں بلوا کر اس کی تربیت کی جائے مگر اب میرا خیال ہے کہ پہلے کچھ مدت وہاں کام لے کر پھر اگر مناسب ہو تو یہاں بلوایا جائے تاکہ پہلے تجربہ سے معلوم ہو جائے کہ آیا وہ کام کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔اور پڑھانے کے بعد پھر علیحدہ کرنے کی مصیبت نہ اٹھانی پڑے۔چونکہ ہمارے بجٹ میں گنجائش نہیں ہے اور چونکہ عورتوں کو بھی تبلیغی کاموں میں مناسب حصہ لینا چاہئے اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس زائد خرچ کو ہماری عورتیں اٹھا ئیں۔اس خرچ کا اندازہ چار ہزار روپیہ سالانہ ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی خان صاحب کے خط سے معلوم ہوا کہ پچھلے چار سالوں میں بجٹ کی کمی کی وجہ سے مشن ولایت مقروض ہوا ہے اور اس وقت وہ پانچہزار روپیہ کے قریب مقروض ہے اور کئی پل لوگوں کے ادا نہیں ہوئے جس کی وجہ سے کام میں خرابی ہورہی ہے۔اصول تو یہ ایک سخت نقص ہے کہ جو بجٹ منظور کیا جائے اگر اس سے زائد خرچ ہو تو فور منظوری نہ حاصل کی جائے لیکن چونکہ غلطی ہو چکی ہے جب وہ خرچ جائز اور سلسلہ کی ضروریات پر ہوا ہے تو اسے ہمیں اٹھانا پڑے گا۔لیکن چونکہ بجٹ میں اس کی بھی گنجائش نہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس زائد خرچ کو بھی عورتیں ہی برداشت کریں اور اس سال نو ہزار روپیہ چندہ او پر کے مقاصد کے لئے جمع کر دیں۔آئندہ سالوں سے خدا تعالے چاہے تو صرف زائد مبلغ کے اخراجات انہیں دینے ہوں گے جن کا اندازہ اس وقت چار ہزار روپے کا ہے۔میں نے قادیان میں اس تحریک کو احمدی خواتین کے سامنے پیش کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان کی عورتوں نے حسب معمول نہایت اخلاص کا ثبوت دے کر ایک ہزار سے زائد رقم کا وعدہ کیا ہے جس میں سے چھ سو روپیہ کے قریب نقد یا بصورت زیور وصول ہو چکا ہے۔میں اب اس تحریک کو اس تحریر کے ذریعہ سے عام کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ دوسری جگہ کی احمدی خواتین قادیان کی بہنوں سے پیچھے نہیں رہیں گیا گر وہ یاد رکھیں کہ مومن مرد اور مومن عورتیں نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے پیچھے رہنا کسی