اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 211
211 حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تقریر یکم دسمبر کو لجنہ اماءاللہ قادیان نے جناب مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے مرحوم مبلغ انگلستان کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی اور ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس پڑھے جانے کے بعد مولوی صاحب نے تقریر کی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ذیل کی تقریر فرمائی:۔حضور نے فرمایا:۔پہلے تو میں سمجھتا ہوں درد صاحب کی ایک ذمہ داری ہے جس کی طرف میں انہیں توجہ دلاؤں گو اب اُن کے لئے بولنے کا موقع نہیں مگر دل میں اس فروگذاشت کا اقرار کر سکتے ہیں جو انہوں نے اپنی تقریر میں عورتوں کو آدمیت سے خارج کرنے میں کی ہے۔عورتیں بھی آدمیت کے مقام پر اسی طرح ہیں جس طرح درد صاحب ہیں یا ہم ہیں۔اگر انسان آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے آدمی کہلاتے ہیں تو درد صاحب کا یہ حق نہیں کہ خود آدمی بن جائیں اور عورتوں کو آدمیت سے خارج قرار دے دیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس میں عورتوں کا بھی دخل ہے وہ کیا کرتی ہیں کہ پردہ کر لو آدمی آگئے یا اس قسم کے اور فقرات بولتی ہیں۔پس چونکہ وہ خود بھی اپنے آپ کو آدمیت سے خارج کرتی ہیں اس لئے در و صاحب کو بھی غلطی لگ گئی۔در دصاحب نے اس وقت جو باتیں بیان کی ہیں وہ بہت مفید ہو سکتی ہیں لیکن ایک چیز ہے جو اس قسم کی تحریکیں کرنے والے لیکچرار نظر انداز کر جایا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اُن کی نگاہ ہمیشہ ولایت کے اعلیٰ طبقہ پر پڑتی ہے اوئی طبقہ یا غرباء کے طبقہ پر وہ نظر نہیں ڈالتے۔اس میں شبہ نہیں کہ یورپ کے تعلیم یافتہ طبقہ کی حالت یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی نسبت بہتر ہے مگر دوسرے طبقوں میں میں نے خود ایسے لڑکے لڑکیاں دیکھے ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے میلے کچیلے تھے ایسے بچے میں نے اٹلی میں بھی دیکھے ہیں اور انگلینڈ میں بھی۔دراصل صفائی اور تربیت میں بہت کچھ دخل تعلیم اور مالی حالت کا بھی ہوتا ہے۔۔۔۔ہمارے ملک میں بچہ سے پیار کرنے کا یہ مطلب سمجھا جاتا ہے کہ اسے تکتا بنایا جائے مگر اُن ملکوں میں پیار کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ کارآمد بنایا جائے یہ ایک مرض ہے ہمارے ملک میں کہ ماں باپ کوشش کرتے ہیں کہ بچہ کو کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑے حالانکہ بچہ کو تربیت میں جو تکلیف اٹھانی پڑے وہ دراصل اُس کے لئے راحت ہوتی