اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 157

157 وہ ساتھ یہ بھی کہیں گے ہماری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی کی عیب چینی کریں۔حالانکہ سو میں سے پچاس باتیں اُن کی عیب چینی کی ہوتی ہیں مگر وہ عیب چینی کرتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے کہ ہم عیب چینی کر رہے ہیں۔اگر بچپن میں اُن کی اصلاح اور عمرانی کی جاتی تو اُن کی یہ حالت نہ ہوتی۔غرض بچپن کا زمانہ اخلاق فاضلہ کے سیکھنے کا بہترین موقع ہے۔اگر کوئی قوم اعلے اخلاق اور پسندید و اعمال میں ترقی کر سکتی ہے تو اس کے لئے بہترین ذریعہ یہی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرے مگر اپنی نسل کی اصلاح اور اُس کے اخلاق کی خاص نگرانی کرے۔بچپن کے زمانہ میں جہاں بچہ بہت جلد اور آسانی کے ساتھ اخلاق فاضلہ سیکھ سکتا ہے وہاں اگر اُس کی نگرانی نہ کی جائے اور اُس کے اخلاق خراب ہو جائیں تو ایسا خطرناک ہو جاتا ہے کہ دوسرے بچوں کے اخلاق کو بھی بگاڑ دیتا ہے۔بڑے بڑے آدمی تو چونکہ عیب کو عیب سمجھنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔اس لئے اس سے بچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن بچوں میں چونکہ نقل کر نیکی عادت ہوتی ہے اس لئے وہ جو کچھ دوسرے کو کرتے دیکھتے ہیں وہی کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک لڑکے کو اگر جھوٹ بولنے کی عادت ہوگی یا گالیاں دینے یا چوری کرنے کی تو جتنے لڑکوں کا اُس سے تعلق ہو گا وہ سارے کے سارے ان حرکات میں اُس کی نقل کریں گے اور اس طرح وہ بھی جھوٹ بولنے ، گالیاں دینے اور چوری کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔تو بچپن کا زمانہ نہ صرف یہ کہ اخلاق فاضلہ سکھنے کا بہت بڑا میدان ہے بلکہ دوسروں کے اخلاق بگاڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔میرے نزدیک بڑے بڑے لیڈر بھی اپنے لیکچروں اور تقریروں میں ایسے کامیاب نہیں ہو سکتے جتنا ایک بچہ دوسرے بچوں کو اپنی باتوں سے متاثر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔میں مذہبی پیشواؤں کو اس سے مستقلی کرتا ہوں کیونکہ اُن کے ساتھ ایماء ملائکہ ہوتا ہے جو اُن کی قبولیت کو پھیلاتے ہیں۔ایک بچہ کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے وہ سو یا دو سولر کے جھوٹ بولنے والے بہت آسانی سے پیدا کر سکتا ہے ایک لڑکا جسے چوری کی عادت ہوتی ہے وہ بآسانی سود و سولڑ کا چوری کرنے والا پیدا کر سکتا ہے۔غرض بچپن میں جنکے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں وہ نہ صرف اپنے آپ کو تباہ کر لیتے ہیں بلکہ اوروں کی بھی تباہی کا باعث بنتے ہیں اور بچپن کی عادت کا اس قدر اثر ہوتا ہے کہ بڑے ہو کر اُن کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔حتما کہ بڑے بڑے فلاسفر اور سمجھدار ہو کر بھی اُن کے سامنے عاجز رہ جاتے ہیں۔پس اخلاق فاضلہ کے لئے میرے نزدیک سب