اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 156

156 لیکن اگر بچپن میں جھوٹ یا چوری وغیرہ کی بد عادات پڑ جائیں تو بڑے ہو کر ان کو کتنے ہی وعظ ونصیحت کئے جائیں، کتنا ہ سمجھایا جائے اور کتنی ہی ملامت کی جائے لیکن وہ ان افعال کو بُراسمجھتے ہوئے بھی ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے ایسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور پھر روتے ہیں کہ ہم سے یہ غلطی ہوگئی ، چوری کرتے ہیں اور پھر افسوس کرتے ہیں کہ ہم سے ایسا ہوا بلکہ میں نے دیکھا ہے انہوں نے خود ہی اپنی غلطی کو محسوس کر کے چوری کا اقرار کیا اور اس کا ازالہ بھی کر دیا لیکن پھر بھی چوری کی عادت سے باز نہیں رہ سکتے۔تو بچپن کی عادات انسان کے ساتھ جاتی اور باقی رہتی ہیں۔الا ماشاء اللہ۔اس لئے بچپن میں بچوں کو اخلاق فاضلہ کی مشق کرانی چاہئے اس سے آئندہ نسلوں کے اخلاق کی حفاظت ہو جائے گی۔یہ بچپن میں تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ کئی ایسے آدمی ہیں جو بہت مخلص اور نیک ہیں لیکن بے ساختہ اُن کے منہ سے گالیاں نکل جاتی ہیں۔بعض مصنف ہیں جو مخلص ہیں لیکن باوجود احتیاط کے اُن کے قلم سے درشت الفاظ نکل جاتے ہیں اور جب سمجھایا جائے تو نہایت سنجیدگی اور متانت سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو کوئی سخت لفظ نہیں لکھا۔یہ بچپن کی عادت کا نتیجہ ہے کہ وہ اس فعل کی مضرتوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس سے بچ نہیں سکتے۔حضرت خلیفہ اول فر مایا کرتے تھے ایک شخص کی نسبت مجھے خبر دی گئی کہ وہ بہت گالیاں دیتا ہے۔ایک روز علیحدگی میں میں نے اُسے نصیحت کی کہ میں نے سُنا ہے کہ آپ گالیاں دیتے ہیں اس سے بچنا چاہیئے کیونکہ اس سے انسان کے اپنے اخلاق بھی خراب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔وہ یہ سنکر بے اختیار نہایت گندی اور بخش گالی دے کر کہنے لگا کون کہتا ہے کہ میں گالیاں دیتا ہوں۔تب میں نے سمجھ لیا که به شخص معذور ہے بلا ارادہ گالی اس کے منہ سے نکل جاتی ہے کیونکہ وہ چاہتا نہیں تھا کہ گالی دے مگر بے اختیار اس کے منہ سے گالی نکل گئی اور وہ محسوس بھی نہیں کرتا تھا کہ میں تو اب بھی گالی دے رہا ہوں۔تو جب انسان کو کسی عیب کی عادت ہو جاتی ہے پھر وہ اس عیب کو عیب ہی نہیں سمجھتا اور اگر سمجھتا ہے تو کرتے وقت اس کو محسوس نہیں کرتا۔ایسے لوگوں کو اگر سمجھایا جائے تو انکار کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا فعل نہیں کیا۔مجھے اس بات کا بہت تجربہ ہے کیونکہ ہر روز لوگوں سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت لوگ ہیں، ہمیشہ عیب چینی کرتے ہیں مگر وہ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے جاتے ہیں ہماری عادت نہیں کہ کسی کی عیب چینی کریں مگر یہ بات یوں ہے۔اور غالباً اگر وہ دن میں ہزار باتیں بھی دوسروں کی غیبت اور عیب چینی کی کریں تو ہر بار