اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 158

158 سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کی اصلاح اور درستی کی پوری پوری فکر اور نگرانی کی جائے اور یہ بات کوئی معمولی نہیں بلکہ بہت بڑی بات ہے۔اس کے لئے سب سے پہلا طریق وسطی اور میانہ روی ہے نہ تو بچے پر اتنی سختی کی جائے کہ اُسے دوسرے بچوں سے ملنے کا موقع ہی نہ دیا جائے اور نہ اتنی نرمی کی جائے کہ خواہ وہ کچھ کرتا پھرے اُس کی نگرانی نہ کی جائے۔اگر اُسے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے گودنے سے روک دیا جائے گا تو اس سے اُس کے اخلاق درست نہیں ہو سکیں گے کیونکہ ایسی صورت میں وہ اس بات کے لئے تیار رہتا ہے کہ بدی اُس کے سامنے آئے اور وہ جھٹ اُسے قبول کر لے کیونکہ بدی کا مقابلہ ارادہ کی قوت سے ہوتا ہے اور وہ اس وقت تک نہیں پیدا ہوسکتی جب تک بچہ اچھے اور بُرے دونوں قسم کے بچوں سے نہ ملے۔جس بچے کو گھر بند رکھا جائے اور کسی سے ملنے نہ دیا جائے وہ پچاس برس کی عمر میں بھی لڑکا ہی رہے گا۔کیونکہ اس کی مثال اُس کانچ کے برتن کی سی ہوگی جسے ذرا ٹھو کر گی اور وہ ٹوٹ گیا۔جب بھی کوئی بدی اُس کے سامنے آئے گی وہ مقابلہ نہیں کر سکے گا لیکن اگر وہ لوگوں سے ملتار ہے تو اُس کے اندر شناخت پیدا ہو جاتی ہے کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے اور بدی سے بچنے کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جن بچوں کی ہمیشہ بختی کے ساتھ نگہداشت کی جاتی ہے وہ بہت کمزور ہوتے ہیں اور وہ اگر نیکی بھی کرتے ہیں تو عادت کے ماتحت نہ کہ بدی کے مقابلہ کی طاقت کی وجہ سے۔یہی وجہ ہے کہ بدی کے پیش ہونے پر بہت جلد اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جن کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور کسی قسم کی نگرانی نہیں کی جاتی اُن کی مثال ان بھیڑوں کی ہے جنہیں بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اگر وہ بد اخلاقی سے بچے رہیں یا اُن کی کسی طرح اصلاح ہو جائے تو اس میں اُن کے ماں باپ کا کوئی حصہ نہیں ہوتا لیکن اگر وہ تباہ ہو جا ئیں اور اُن کے اخلاق بر باد ہو جا ئیں تو اس کے ذمہ دار ماں باپ ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی سے غفلت کی اور اپنی اولاد کی کچھ حکمرانی نہ کی۔غرض بچوں کے اخلاق کی درستی میں میانہ روی اختیار کرنی چاہئے نہ تو آنی تھی کرنی چاہیئے کہ وہ کسی سے مل ہی نہ سکیں اور نہ اتنی آزادی دینی چاہیئے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں اور اُن کی کوئی نگہداشت نہ کی جائے۔بچے عام طور پر اخلاق ماں باپ سے نہیں سیکھتے بلکہ زیادہ تر اخلاق دوسرے بچوں سے سیکھتے ہیں مگر ماں باپ یہ پتہ لگاتے رہنا فرض ہے کہ بچے کیا سیکھ رہے ہیں۔اور یہ کوئی مشکل بات نہیں کیونکہ بچے جو کچھ