اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 89

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 89 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون میری بات نہیں سنتا۔میں ان سب کو احمدی بنا کر ہی دم لوں گی۔شاید یہی عورت، حضور نے لکھا ہے کہ جلسے سے پہلے، چند ماہ قبل یہاں آئی تھی۔اُس کے پاس ایک بچہ تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے وہ ربوہ نہیں آتا تھا۔میں اس کا بچہ اُٹھا لائی ہوں کہ وہ اس بچے کی وجہ سے ربوہ تو آئے گا۔مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اس کا وہ بھائی احمدیت کے قریب ہے۔لیکن بعد میں پتہ لگا کہ اسی طرح وہ ربوہ آیا اور پھر وہ اللہ کے فضل سے احمدی ہو گیا۔حضور یہ واقعہ لکھ کر کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ پر آنے والے یہاں کا ماحول دیکھ کر اور یہاں کی ہماری تنظیم دیکھ کر ایک نظام دیکھ کر، رویے دیکھ کر اور احمدیوں کے آپس کے تعلقات دیکھ کر وہ مجبور ہوتے ہیں کہ پھر وہ دلچسپی لیں اور پھر احمدیت قبول کریں۔اسلام کی تاریخ میں ایک بہادر خاتون کا ذکر آتا ہے جن کا نام حضرت ام عمارہا تھا۔حضرت ام عمارہ نے احد کے بعد بیت الرضوان، خیبر اور فتح مکہ میں شرکت کی۔حضرت ابو بکر کے عہد میں یمامہ کی جنگ پیش آئی اس میں بھی بڑی جرات سے لڑیں اور بارہ زخم آئے ان کو ، اور ایک ہاتھ کٹ گیا اُن کا۔ان کے بارہ میں آتا کہ ہجرت نبوی کے تیسرے سال مسلمانوں کو احد کا معرکہ پیش آیا تھا۔حضرت ام عمارہ بھی اس میں شریک ہوئیں اور ایسی شجاعت اور جانبازی اور عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ میں خاتونِ اُحد کے لقب سے مشہور ہوئیں۔طبقات ابن سعد کی روایت ہے کہ ان کے شوہر اور ان کے دونوں بڑے فرزند عبداللہ اور حبیب بھی غزوہ احد میں ان کے ساتھ شریک تھے۔جب تک مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا ، ام عمارہ دوسری عورتوں کے ساتھ پانی پلاتی رہیں مجاہدین کو اور زخمیوں کی خبر گیری کرتی رہیں۔جب ایک اتفاقی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسا پلٹ گیا اور مجاہدین انتشار کا شکار ہو گئے ، اس وقت رسول اکرم ﷺ کے پاس صرف چند جان نثار صحابی رہ گئے تھے۔حضرت ام عمارہ نے یہ کیفیت دیکھی تو انہوں نے مشکیزہ پھینک کر ، جو مشک پانی کی اٹھائی ہوئی تھی ، وہ پھینک دی اور تلوار اور ڈھال سنبھال لی۔اور حضور کے قریب پہنچ کر کفار کے سامنے سینہ سپر ہو گئیں۔کفار بار بار یورش کرتے تھے، حملہ کرتے تھے اور حضور کی طرف بڑھتے تھے اور حضرت اُم عمارہ انہیں دوسرے ثابت قدم مجاہدین کے ساتھ مل کر تیرا اور تلوار سے روکتی تھیں۔یہ بڑا نازک وقت تھا۔بڑے بڑے بہادروں کے قدم لڑکھڑا