اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 90

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 90 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب گئے تھے لیکن یہ شیر دل خاتون کو استقامت بن کر میدان جنگ میں ڈٹی ہوئی تھیں۔اتنے میں ایک مشرک نے ان کے سر پر پہنچ کر اپنی تلوار کا وار کیا۔ام عمارہ نے اسے اپنی ڈھال پر روکا اور پھر اس کے گھوڑے کے پاؤں پر تلوار کا ایسا بھر پور ہاتھ مارا کہ گھوڑا اور سوار دونوں زمین پر آگئے۔پھر لکھا ہے کہ یہ ماجرا دیکھ کر آنحضرت علی نے ، آپ یہ ماجرا دیکھ رہے تھے یہ سارا حال تو آپ نے اُمِ عمارہ کے بیٹے عبداللہ کو آواز دی اور فرمایا: عبد اللہ اپنی ماں کی مدد کر۔وہ فوراً اُدھر لیکے اور تلوار کے ایک ہی وار سے اس مشرک کو قتل کر دیا۔تو عین اسی وقت ایک دوسرا مشرک تیزی سے اُدھر آیا اور حضرت عبداللہ کا بایاں بازو زخمی کرتا ہوا نکل گیا۔حضرت اُم عمارہ نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ کا زخم باندھا اور پھر فرمایا: بیٹے جاؤ ، اور جب تک دم میں دم ہے لڑو۔حضور نے حضرت ام عمارہ کے اس جذ بہ جان شاری کو دیکھ کرفرمایا کہ اے ام عمارہ! جتنی طاقت تجھ میں ہے اور کسی میں کہاں ہوگی ؟ اسی اثناء میں وہی مشرک جس نے عبداللہ کو زخمی کیا تھا، پلٹ کر پھر حملہ آور ہوا۔حضور ﷺ نے ام عمارہ سے فرمایا: ام عمارہ سنبھلنا، یہ وہی بد بخت ہے جس نے عبداللہ کو زخمی کیا تھا۔حضرت اُم عمارہ جوشِ غضب میں اس کی طرف جھپٹیں اور تلوار کا ایک کاری وار کیا کہ وہ دوٹکڑے ہو کر نیچے گر گیا۔اس پر حضور ﷺ نے تبسم فرمایا اور فرمایا: ام عمارہ نے تو اپنے بیٹے کا خوب بدلہ لیا۔صلى الله اسی جنگ کے دوران ایک بد بخت نے دُور سے حضور پر پتھر پھینکا جس سے آپ عملے کے دو دانت شہید ہو گئے۔اور پھر اس وقت جو صحابہ تھے جو شمع رسالت کے پروانے تھے، وہ بڑے اضطراب میں ادھر متوجہ ہوئے اور ابن قمیہ نامی ایک کا فر بھی بڑا جوش سے حضور کے قریب پہنچ گیا اور تلوار کا ایک بھر پور وار کیا اور حضور نے جو خود پہنا ہوا تھا، وہ اُس کی تلوار سے، جب پڑی اُس پر تو اس کے خود کی دو کڑیاں حضور میلے کے چہرے پر یہاں اندر کھب گئیں اور خون بہہ پڑا وہاں سے۔یہ سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کسی کو کچھ پتہ نہ لگا۔ام عمارہ بیتاب ہو گئیں اور آگے بڑھ کر ابن قمیہ کو روکا۔یہ شخص قریش کا بڑا مشہور شہ سوار تھا لیکن اس شیر دل خاتون نے اس کی پروا نہیں کی کہ کتنا بہادر ہے اور نہایت جرات کے ساتھ اس پر حملہ کیا۔دوہری زرہ پہنی ہوئی تھی اس نے۔ام عمارہ کی تلوار اس پر صیح طرح نہ لگ سکی ، اُچٹ گئی۔اور لیکن اس بہادر کو بھی جو کافر تھا یہ جرأت نہ پیدا ہوئی کہ اس عورت سے مقابلہ کر سکے۔وہ پہلے حملہ کھا کے ہی دوڑ گیا وہاں سے۔ام عمارہ کو بھی زخم آئے ، حضور نے خود