اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 88
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 88 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب کی۔قادیان کے قریب ایک گاؤں ہے بھینی۔وہاں کی ایک احمدی عورت نے ، جو اس جلسہ گاہ کے قریب کھڑی تھی ، مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیں اور تمام احمدی مرد بیٹھے رہے۔تو اس نے مولوی صاحب کو پنجابی میں گالی دے کر بڑا بُرا بھلا کہا کہ تم حضرت مسیح موعود کے خلاف بولتے ہو۔اس پر غیر احمدی جوش میں آگئے اور اس عورت کو مارنے کے لئے اٹھے۔بعض احمدی اسے بچانے لگے تو دوسرے احمدیوں نے کہا کہ ایسا نہ کرو، حضرت صاحب نے احمدیوں کو فساد کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔اس پر حضرت صاحب نے کہا کہ میں ان احمدیوں پر بھی بڑا خفا ہوا کہ اس احمدی عورت نے غیرت کا مظاہرہ کیا جبکہ مردوں کو کرنا چاہیے تھا اور پھر تم اس احمدی عورت پر جب غیر احمدیوں نے حملہ کر دیا تو اس عورت کی عزت کے لئے بھی کھڑے نہیں ہوئے ، تم لوگ بے شرم ہو، میرے حکم کا مطلب یہ ہر گز نہیں تھا۔پھر تبلیغ کا میدان ہے اس میں ہماری عورتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا حصہ لیتی ہیں۔انڈونیشا کی لجنہ نے ایک عجیب طریقہ تبلیغ کا نکالا کہ ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے انہوں نے جانا تھا، وہاں لجنہ نے وقار عمل کر کے تین کلومیٹر لمبی سڑک بنادی۔اس سڑک کا گاؤں والوں کو بہت فائدہ ہورہا ہے اب اور ان کو احساس تشکر بیدار ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں احمدیت کی طرف ان کی توجہ مبذول ہوئی۔اور جب یہ واقعہ لکھا گیا ہے 1998ء کا اب تو شاید زیادہ ہو تو اس وقت تک اس سڑک کی وجہ ا سے اس گاؤں میں تبلیغ کے موقعے پیدا ہوئے اور پانچ سواحمدی وہاں ہو گئے۔پھر تبلیغ کا اور غیرت ایمانی کا ایک واقعہ سنیں۔چک منگلا اور جھنڈ بھروانا۔یہ علاقے ربوہ کے قریب ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہاں بھی جماعت ترقی کر رہی ہے اور یہی وہ بہادر لوگ ہیں جن کی ایک عورت کی مثال حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے جلسے میں دی تھی۔تقریر میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ بیعت کرنے یہاں آئی تھی کہ شام کو اس کی بیٹی بھی آگئی۔اُس نے کہا اماں تو نے مجھے کہاں بیاہ دیا ہے؟ بیٹی نے کہا آئے، وہ لوگ تو میری باتیں سنتے نہیں، تو نے مجھے کتا بیں دی تھیں، احمدیت کا لٹر پچر دیا تھا کہ جا کے تبلیغ کرو۔میں انہیں پڑھ کر سناتی ہوں تو سنتے نہیں ہیں۔میں احمدیت پیش کرتی ہوں تو ہنسی مذاق کرتے ہیں اور مجھے پاگل قرار دیتے ہیں۔وہ عورت کہنے لگی بیٹی میری جگہ آکر اپنے باپ اور بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی روٹی پکا میں تیرے سسرال