اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 21
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 21 بر موقع اجتماع جرمنی 2006 مستورات سے خطاب ہورہی ہیں۔آپ اس فکر سے آزاد ہو جائیں گی کہ ہمارے بچے جب سکولوں اور کالجوں میں جاتے ہیں۔تو وہاں کے ماحول کے زیر اثر خدا کو نہ بھول جائیں۔کیونکہ آجکل کی اس نام نہاد ترقی یافتہ دنیا میں نئی نسل میں مادیت کی طرف رجحان کی وجہ سے اور مذہب میں بگاڑ پیدا ہو کر سچائی کے ختم ہو جانے کی وجہ سے عملاً ایک بڑی تعداد ان ملکوں میں مذہب سے دور ہٹ گئی ہے۔یعنی وہ لوگ جو احمدی بچے نہیں ہیں۔نو جوان نہیں ہیں عیسائی ہیں یا دوسرے مسلمان بھی مذہب سے دور ہٹتے چلے جارہے ہیں اُن کا صرف نام کا مذہب ہے۔تو اس معاشرے میں گھلنے ملنے کے باوجود اگر آپ نے اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کی ہے کہ ان کا تعلق خدا سے جوڑ دیا ہے تو پھر یہ ساری فکریں جیسا کہ میں نے کہا آپ کی ختم ہو جائیں گی یہ نماز میں اور خدا سے تعلق آپ کے بچوں کو شراب، نشہ، جوا، زنا، جھوٹ ، چوری یا ہرقسم کی برائیوں سے محفوظ رکھیں گی کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا اعلان ہے کہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (العنکبوت : ۴۶) یعنی یقیناً نماز تمام بُری اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کی جائے نہ دنیا دکھاوے کے لئے اور نہ ہی گلے پڑا ایک فرض سمجھ کر کہ اس بوجھ کو اتار وجلدی جلدی ٹکریں مارو اور ختم کرو نماز کو۔ایسی نمازیں پھر کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی کا ہلی اور سستی سے ادا کی گئی جو نمازیں ہیں ان پڑھنے والوں کے منہ پر ماری جاتی ہیں۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔یہ عبادتیں اللہ تعالیٰ کے مقام کو بلند نہیں کرتیں بلکہ عبادت کرنے والے کی خود اُس کی دنیا و عاقبت کو سنوارتی ہیں۔پس آپ جن کے ہاتھ میں مستقبل کی نسلوں کو سنوارنے کی ذمہ داری ہے آپ کا کام ہے کہ اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کریں۔اپنے آپ کو بھی ایک خدا کی عبادت کرنے والا بنائیں اور اپنے بچوں کے لئے بھی یہ نیک نمونے قائم کرتے ہوئے انکی بھی نگرانی کریں کہ ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہورہا ہے بعض لوگ کہتے ہیں خاص طور پر مائیں یہ اظہار کرتی ہیں کیونکہ ان کو زیادہ احساس بھی ہوتا ہے اور اکثر ایک عمر کے بعد زیادہ احساس ہو جاتا ہے تو وہ یہ اظہار کر رہی ہوتی ہیں کہ اس عمر تک 12, 13, 14 سال کی عمر تک تو ہمارے بچے لڑکی یا لڑ کا ٹھیک تھے۔جوانی کی عمر کو پہنچ کر ایک دم پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے کہ جماعت سے بھی دور ہٹ گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بھی دور ہٹ گئے ہیں اور اس معاشرے کے گند میں پڑر ہے۔