اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 20
الا ز حارلذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 20 بر موقع اجتماع جر منی 2006 مستورات سے خطاب ان کے لئے ایک نصیحت ہے کہ ان بچوں کو تو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھتے ہوئے اور زیادہ اُس کا شکر گزار ہونا چاہئے اور شکر گزاری کا یہ تقاضا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر اسکی عبادت کرو نہ کہ عبادتوں کو بھول جاؤ۔ورنہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا ہے کہ یہ انعام واپس لے لے۔اگر یہ میرے اور میری بندی کے درمیان میں حائل ہے، روک بنا ہوا ہے۔اگر میرے اس انعام کی وجہ سے ایک احمدی ماں اس کو میرے مقابلے میں شریک بنا کر کھڑا کر رہی ہے تو اُس کو اِس انعام سے محروم کر دوں۔پھر جس کو بہانہ بنایا جارہا ہے وہی بچہ بڑے ہو کر آپ کے لئے تکلیف اور دکھ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔معاشرے میں آپ کو بدنام کرنے والا بھی بن سکتا ہے۔تو اگر عبادت کر رہی ہیں اور نمازوں کی ادائیگی کر رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان عبادتوں کے طفیل آپ کے بچوں کے مستقبل بھی روشن کر دے گا اور آپ پر بے شمار فضل فرمائے گا۔بہت سی کامیابیوں سے نوازے گا یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے مومنوں سے کہ وہ عاجزی سے نمازیں پڑھنے والے اُس کے آگے جھکنے والے کسی کو اُس کا شریک نہ بنانے والے اُس کے فضلوں کے وارث ٹھہرتے ہیں۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں یہ ایک بنیادی حکم ہے۔ایک مومنہ مسلمان احمدی عورت کے لئے ورنہ اس زمانے کے امام کو ماننے کے دعوے بالکل کھو کھلے ہیں کیونکہ بیعت آپ نے اس لئے کی ہے کہ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کرنی ہے۔خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق، بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کریں جماعت میں آپ اس لئے شامل ہوئی ہیں کہ اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اپنے خدا اسے زندہ تعلق جوڑنا ہے اور پھر صرف یہی نہیں کہ آپ نے صرف اپنا تعلق خدا سے جوڑنا ہے بلکہ بطور اپنے خاوند کے بچوں کے اپنے بچوں کے نگران کے طور پر اس بات کی بھی نگرانی کرنی ہے کہ آپ کی اولا دلڑ کے ہوں یا لڑکیاں ہوں اُن کو بھی خدا تعالیٰ کے قریب لانے والا بننا ہے اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا بنا ہے اُس کی محبت اور پیار دل میں پیدا کرنے والا بننا ہے۔ان کے دل میں بھی یہ بات میخ کی طرح گاڑھنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بغیر ہماری زندگی بے فائدہ ہے اور جب یہ روح آپ اپنی اولادوں میں پیدا کر دیں گی تو پھر دیکھیں کہ آپ کی نسلوں کی خود بخود اصلاح ہو جائے گی۔آپ کو یہ فکر نہیں رہے گی کہ ہماری اولادیں اس معاشرے کے زیر اثر برباد