اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 22

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 22 بر موقع اجتماع جر منی 2006 مستورات سے خطاب ہیں۔بعض بچے بچیاں بلوغت کی عمر کو پہنچ کر جب اُن کو یہاں کا قانون آزادی دے دیتا ہے، گھروں سے نکل گئی ہیں اور علیحدہ رہ رہے ہیں ایسے بچے اور بچیاں یہ جو پتہ نہیں کیوں کی بات کی جاتی ہے ماں باپ کی طرف سے یہ غلط ہے اُن کو پتہ ہے کہ کیوں اس طرح ہو رہا ہے اس لئے کہ ماں باپ نے اپنی عبادتوں کے نمونے بچوں کے سامنے نہیں دکھائے نہ بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔زمانے کی لغویات، فضولیات اور بدعات آپ کے گھروں پر اثر انداز نہ ہوں۔یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہے لیکن اُس کے لئے بھی دُعا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اُس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ماں یا باپ ان میں سے کوئی بھی ، ایک بھی اپنے نمونے قائم کر کے تربیت کی طرف توجہ نہیں دے رہا اور بچوں کے لئے دعا نہیں کر رہا تو پھر بچوں کے بگڑنے کے امکانات ہوتے ہیں۔پس گاڑی کے پہیوں کی طرح اپنے آپ کو بیلنس رکھنا ہوگا۔دونوں کو ایک ساتھ چلنا ہوگا۔تب ہی آپ کے بچے اپنی زندگی کا سفر بغیر کسی حادثے کے گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو معاشرے کا مفید وجود بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔پس اس بنیادی اور انتہائی اہم بات کی طرف ابتدا سے ہی توجہ دیں۔پھر گھروں کے ماحول کو جب آپ پاک کر لیں گی تو پھر آپ اس کوشش میں بھی رہیں گی کہ زمانے کی لغویات، فضولیات اور بدعات آپ کے گھروں پر اثر انداز نہ ہوں۔کیونکہ یہی چیزیں ہیں جو ان پاک تبدیلیوں کی کوششوں کو گھن کی طرح کھا جاتی ہیں۔جس طرح لکڑی کو گھن کھا جاتا ہے۔یہاں اس معاشرے میں آج کل اس کو تہذیب یافتہ معاشرہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز تہذیب یافتہ نہیں ہے یہاں کی، یہ لوگ بڑے مہذب اور تہذیب یافتہ کہلاتے ہیں جو لغوولعب میں پڑے ہوئے ہیں۔آزادی ضمیر کے نام پر سڑکوں گلیوں بازاروں میں بیہودہ حرکتیں ہورہی ہیں۔لباس کی یہ حالت ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس ننگے لباس کو جس کو یہ لوگ تہذیب کہتے ہیں چند سو سال پہلے بلکہ بعض ملکوں میں چند سال پہلے تک بھی اور بعض ملکوں میں آج بھی وہاں