اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 19
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 19 بر موقع اجتماع جرمنی 2006 مستورات سے خطاب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری زوجہ محترمہ تھیں۔آپ کے ساتھ شادی بھی حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کی تھی اور آپ کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو مبشر اولا د سے نوازا تھا۔اُن کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ایک تو یہ تھا کہ آپ عمومی طور پر خواتین کی تربیت کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتی تھیں۔کبھی قادیان میں احمدی گھروں میں تربیت اور خدمت خلق کی غرض سے جاتی تھیں اور اکثر یہ ہوتا کہ عورتیں آپ کو ملنے کے لئے آپ کے پاس آتیں اور اس روحانی اور علمی مائدے سے فائدہ اٹھانے کے لئے جمع ہوتیں جو حضرت اقدس مسیح موعود کی صحبت کی وجہ سے، حضرت مسیح موعود کی قوت قدسیہ کی وجہ سے حضرت اماں جان کو بھی ملتا تھا۔تو بہر حال اس وقت میں نمازوں اور عبادت کی بات کر رہا تھا کہ ان کے پاس جانے والی خواتین بیان کرتی ہیں کہ جب ہم بیٹھے ہوتے مختلف موضوعات پر باتیں ہو رہی ہوتیں آپ ہمیں نصائح فرما رہی ہوتیں ہم اُن نصائح سے فیضیاب ہو رہے ہوتے اور اس دوران اگر اذان ہو جاتی تو آپ فوراًبا تیں چھوڑ کر کھڑی ہو جاتیں کہ اب نماز کا وقت ہو گیا ہے کہ میں بھی اندر جا کر نماز پڑھ آؤں تم لوگ بھی نماز پڑھ لو۔اور پھر نماز سے فارغ ہو کر جب آپ واپس آتیں باہر، تو پوچھتیں کہ نماز پڑھ لی ہے؟ ایک خاتون ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ حضرت اماں جان کو ملنے گئی حسب معمول آپ نے حال دریافت کیا اور بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ تم آئی ، باتیں ہوتی رہیں جس دوران میں اذان ہوگئی آپ اُٹھ کر اندر چلی گئیں کہ میں نماز پڑھ کر آتی ہوں۔بچیو! تم بھی نماز پڑھ لو۔وہ خاتون کہتی ہیں کہ میں نے چھوٹے بچے کی وجہ سے کہ بعض دفعہ بچوں کے پیشاب وغیرہ کرنے سے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں چھوٹے بچوں کی وجہ سے تو سوچا کہ گھر جا کر نماز پڑھ لوں گی۔جب نماز سے فارغ ہو کر حضرت اماں جان واپس آئیں تو پوچھا نماز پڑھ لی؟ تو میں نے عرض کی کہ بچے کی وجہ سے کپڑے گندے ہونے کا شبہ تھا اس لئے گھر جا کر پڑھ لوں گی۔اس پر آپ نے بڑی ناراضگی سے فرمایا کہ اپنے نفس کے جو بہانے ہیں ان کو بچوں پر نہ ڈالا کرو۔بچے اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتے ہیں۔ان کو انعام سمجھو اور اپنے اللہ کی عبادت میں روک نہ بناؤ۔اللہ تعالیٰ اِس سے ناراض ہوتا ہے۔تو ایسی مائیں جو بچوں کی مصروفیت کی وجہ سے یا بچوں کی وجہ سے مصروفیت کا اظہار کرتی ہیں اپنی نماز میں وقت پر نہ پڑھنے یا بالکل ہی ادا نہ کرنے کے بہانہ بناتی ہیں۔