اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 140
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 140 خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 2007 کو جماعتی activities میں شامل کیا جائے تا کہ ترقی کی رفتار میں تیزی پیدا ہو۔ہر ایک کا اپنا اپنا ایک لائحہ عمل ہوتا کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسابقت کی روح پیدا ہو۔گاڑی کی پڑی کی طرح، لائن کی طرح دونوں برابر چل رہے ہوں، کہیں ٹکراؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک انعام ہے۔اس کی قدر کریں تا کہ اسلام اور احمدیت کی گاڑی اس پڑی پر منزلوں پر منزلیں طے کرتی چلی جائے اور ہم اسلام کا جھنڈا دنیا میں لہراتا ہوا دیکھیں۔جلسہ کے حوالے سے ایک بات میں عورتوں کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں۔عموماً عورتوں کی یہ شکایت ہوتی تھی کہ ان کی مارکی میں پروگراموں کے دوران شور بہت ہوتا ہے۔میری تقریر کے دوران بھی بچوں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ حد تک شور رہتا تھا۔تو میں نے انتظامیہ کو کہا تھا کہ یوکے میں بھی اس طرح ہوتا ہے یہاں بھی یہی کریں کہ بچوں والی عورتوں کی علیحدہ مار کی ہوتا کہ جو مین مار کی ہے اس میں شور کم سے کم ہو۔عورتیں بے شک خود شور مچا رہی ہوں، باتیں کر رہی ہوں لیکن بچوں کی موجودگی کی وجہ سے ان کو بہانہ مل جاتا ہے کہ بچے شور کر رہے ہیں۔بہر حال اس دفعہ غیر معمولی طور پر عورتوں نے میری تقریر کے دوران خاموشی کا مظاہرہ کیا اور اس خاموشی کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔میں اس بات پر خوش بھی تھا اور اس بات کا افسوس بھی کر رہا تھا کہ یہ میری بدظنی تھی کہ عورتیں بچوں کی آڑ میں خود باتیں کرتی رہتی ہیں۔لیکن میری یہ خوش فہمی تھوڑی دیر کے بعد ہی دور ہوگئی اور پتہ لگ گیا کہ یہ میری بدظنی نہیں تھی کیونکہ میری تقریر کے علاوہ عورتوں نے خاموشی اختیار نہیں کی اور ایک بڑا طبقہ مسلسل باتیں کرتا رہا اور ڈیوٹی والیوں کے کہنے پر بھی خاموش نہیں ہوتی تھیں۔کسی کا جواب تھا کہ پہلے فلاں کو چپ کر اؤ پھر میں چپ کروں گی۔کسی نے یہ جواب دیا کہ اتنے لمبے عرصے کے بعد تو ہم ملے ہیں۔ہمارے خاوند تو ملنے بھی نہیں دیتے تو ہم اب بیٹھ کر باتیں بھی نہ کریں۔اور جو بیچاری نیک نیتی سے جلسہ سننے کے لئے آئی تھیں ، وہ جو بیچاری اس نیت سے آئی تھیں اور اس شور کی وجہ سے ان پروگراموں سے استفادہ نہیں کر سکیں ان میں سے بہت ساری ایسی تھیں جنہوں نے رونا شروع کر دیا کہ ہمیں پروگرام بھی سنے نہیں دے رہیں۔سنا ہے ایک دفعہ تو اتنا شور تھا کہ مائیکر وفون سے بھی آواز نہیں آ رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک سال جلسہ ہی اس لئے منعقد نہیں کیا تھا کہ جو