اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 141

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 141 خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 2007 جلسے کا مقصد ہے اسے پورا نہیں کیا جاتا۔میں بھی یہ سوچ رہا ہوں کہ لجنہ کا وسیع پیمانے پر جلسہ ہی بند کر دیا جائے اور چھوٹے چھوٹے ریجنل جلسے کئے جائیں اور پھر اگر تربیت ہو جائے تسلی ہو جائے تو پھر مرکزی جلسہ کریں۔یا پھر دوسری صورت یہی ہے کہ تھوڑا سا ان کو توجہ دلانے کے لئے میں لجنہ میں براہ راست خطاب بند کر دوں اور جب تک یہ اطلاع نہیں مل جاتی کہ اس سال تمام پروگرام لجنہ نے خاموشی سے سنے ہیں اس وقت تک وہاں خطاب نہ کیا جائے۔مجھے پتہ ہے، احساس ہے کہ عورتوں کی کافی تعداد جو خالصتاً جلسہ کی نیت سے آتی ہیں ان کے لئے بہت تکلیف دہ ہوگا۔لیکن علاج کے لئے بعض دفعہ کڑوی گولیاں دینی پڑتی ہیں۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک سال جلسہ نہیں کیا تھا، حالانکہ بڑے اخلاص سے بڑی تعدا د جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئی تھی تو یہاں بھی ایک صورت کی جائے تاکہ شاید اصلاح ہو جائے۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صرف نو مبائعات جو بڑے آرام سے اور شوق سے جلسہ سنتی ہیں اور ہیں پچیس سال تک کی لڑکیاں، عورتیں جن میں فی الحال کم باتیں کرنے کا شوق ہے، ان کو جلسہ پر یا مرکزی اجتماع پر آنے کی اجازت ہو اور باقیوں پر پابندی لگا دی جائے اور صرف یہاں نہیں بلکہ میں اب سوچ رہا ہوں کہ اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے مختلف ملکوں میں اس طرح کے جائزے لوں جہاں بڑی جماعتیں ہیں۔عورتوں کو اتنی مرتبہ توجہ دلائی گئی ہے کہ اپنے مقام کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا کریں لیکن بہت کم اثر ہوتا ہے۔میری تقریر کے دوران لجنہ کی مارکی میں اس قدر خاموشی تھی کہ میں سمجھا تھا کہ ضرور میری باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گی لیکن میرے مارکی سے باہر نکلنے کے بعد ہی وہاں شور شروع ہو گیا۔وہی ہنگامہ، وہی باتیں اور سارے پروگراموں کے دوران اسی طرح ہوتا رہا۔یا درکھیں اگر اسی طرح کی حرکتیں ہوتی رہیں تو یہ پرانے احمدیوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کیونکہ نئے آنے والے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں اور پرانوں کو جلسے کا صرف ایک مقصد یا درہ گیا ہے کہ آپس کے تعلقات بڑھاؤ۔یاد رکھیں کہ ہر عمل جو موقع محل کے لحاظ سے نہ کیا جائے ، بے شک صحیح اور اچھا ہو ، وہ عمل صالح نہیں کہلاتا۔میں سمجھتا ہوں کہ لجنہ کی تنظیم بھی نچلی سطح سے لے کر، اپنے شہر کی تنظیم سے لے کر مرکزی سطح تک تربیت میں اس کمی کی ذمہ دار ہے۔بڑے بڑے مسائل یاد کرنے سے بہتر ہے پہلے اپنی تربیت