اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 139
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 139 خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 2007 بلکہ بحیثیت فرد جماعت خدام الاحمدیہ کے متعلقہ افسر کو اطلاع کر کے کہ جماعت کے عہدیدار نے میرے سپر دفلاں فوری کام کیا ہے، اس لئے میں اس کو پہلے کرنے کے لئے جا رہا ہوں، اس کام کو پہلے کرے اور خدام الاحمدیہ یا کسی بھی ذیلی تنظیم کا کام بعد میں۔یہ تو ہے ہنگامی موقع پر لیکن عام طور پر روٹین (routine) کے جو کام ہوتے ہیں، اس کا سالانہ کیلنڈر جماعت کا بھی بن جاتا ہے اور ذیلی تنظیموں کا بھی اور جماعت کا کیلنڈر کیونکہ پہلے بن جاتا ہے اس لئے ذیلی تنظیمیں اپنے پروگرامز اس کے مطابق ایڈ جسٹ کریں مثلاً اجتماع ہے، ٹورنامنٹس ہیں اور مختلف جلسے ہیں۔اگر ہنگامی طور پر کوئی جماعتی پروگرام کسی جگہ بن جاتا ہے تو جماعتی پروگرام بہر حال ذیلی پروگراموں پر مقدم ہے۔ذیلی تنظیموں کے جو پروگرام ہیں ان میں براہ راست جماعتی انتظامیہ کو دخل دینے کا حق نہیں ہے، یہ بھی واضح ہونا چاہئے۔خدام الاحمدیہ کے کام میں مقامی صدران یا امیر وغیرہ کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتے۔نہ لجنہ کے کام میں نہ انصار اللہ کے کام میں، باوجود اس کے کہ ان کا نظام بالا ہے۔اگر امراء خلاف تعلیم سلسلہ اور خلاف روایت ذیلی تنظیموں سے کوئی کام ہوتا ہوا دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ ذیلی تنظیم کے صدر کو بلا کر سمجھائیں، اگر مقامی طور پر ہو رہا ہے تو امیر کو اطلاع دی جائے اور قائد کو سمجھایا جائے اور پھر فوری طور پر خلیفہ وقت کو اطلاع دینی ضروری ہے۔کیونکہ جماعتی روایات کا تقدس بہر حال قائم کرنا ضروری ہے۔لیکن یہ فرق یا درکھنا چاہئے کہ پروگراموں میں براہ راست دخل اندازی نہیں کی جا سکتی۔بعض اور جگہوں سے بھی یہ سوال اٹھتے ہیں اس لئے میں ان کو مختصر بیان کر رہا ہوں۔لجنہ کے اجلاسوں کے بارے میں بھی واضح کر دوں کہ بعض لجنہ کی تنظیموں سے یہ سوال اٹھتے رہتے ہیں کہ مردوں کے جو ماہانہ اجلاسات ہوتے ہیں اس میں لجنہ کو بھی لازماً شامل ہونے کے لئے کہا جاتا ہے۔اس بارہ میں واضح ہو کہ لجنہ کے کیونکہ اپنے ماہانہ اجلاس ہوتے ہیں اس لئے جماعتی ماہانہ اجلاسوں میں لجنہ کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے، نہ ان کا شامل ہونا ضروری ہے۔ہاں جو بڑے جلسے ہیں، جیسے سیرت النبی کا جلسہ ہے، یوم مسیح موعود ، یوم مصلح موعود، یوم خلافت وغیرہ یا اور کوئی پروگرام جو مرکزی طور پر یا ریجن کے طور پر بنتے ہوں ان میں لجنہ ضرور شامل ہو۔اس کے علاوہ لجنہ خود بھی اپنے یہ اجلاسات اور جلسے کر سکتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذیلی تنظیمیں بنانے کا یہ مقصد تھا کہ جماعت کے ہر طبقے