اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 54
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 54 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب جائیں تو ایسا خوبصورت معاشرہ جنم لے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہوگی۔اس بارہ میں اب میں کچھ مزید وضاحت کرتا ہوں۔لیکن اس سے پہلے یہ بتاؤں گا کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ مسلمان اور مومن، یہ الگ الگ کیوں کہا گیا ہے؟ اس بارہ میں خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: قَالَتِ الاَعْرَابُ امَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا ط يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ طَ وَ إِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا۔طَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الحجرات:15) یعنی بادیه نشین، وہ لوگ جو گاؤں میں دیہاتوں میں رہتے تھے ، کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں۔جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔یقیناً اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو یہ بتا دیا کہ مسلمان ہونے میں اور مضبوط ایمان دلوں میں قائم ہونے میں بہت فرق ہے۔مضبوط ایمان تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تمہارا ہر عمل، ہر فعل، ہر کام جو تم کرتی ہو خدا کی رضا کی خاطر کرو۔اللہ کا خوف اور خشیت ہر وقت تمہارے ذہن میں رہے۔تقویٰ کی باریک سے باریک راہیں ہمیشہ تمہارے مد نظر رہیں۔اور تم ان پہ قدم مارنے والی ہو۔اپنے بچوں کے دلوں میں بھی ایمان اس حد تک بھر دو کہ اُن کا اوڑھنا بچھونا بھی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہو۔ہاں جو بڑے بڑے احکامات ہیں، فرائض ہیں، ان کو مان کر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہو چکے ہو۔یہ اطاعت تم کرتے رہو اس کا بھی اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: أَسْلَمْنَا ہمیشہ لاٹھی سے ہوتا ہے۔“ ( یعنی طاقت سے۔جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کثرت سے لوگ قبول کر رہے ہیں تو اس وقت قبول کر لیا جاتا ہے۔) اور امن اس وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ دل میں ڈال دے۔ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور اسلام کے اور۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس وقت ایسے