اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 55
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 55 سالانہ اجتماع ہو کے 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب لوازم پیدا کئے کہ جن سے ایمان حاصل ہو“۔(البدر جلد 2 نمبر 19۔29 رمئی (1471903 پھر فرماتے ہیں: ” مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے۔اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسدا نہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دُور تر لے جاتے ہیں۔“ 66 ( تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 103) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس اقتباس سے اس بات کی مزید وضاحت ہوگئی کہ تقوی کی باریک راہوں پر جب چلنے لگو تو تب سمجھا جائے گا کہ تم مومن ہو۔اس میں سب سے پہلی چیز آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے زیادہ ہو اور اس کے مقابلہ میں کوئی دنیاوی رشتہ، کوئی محبت روک نہ بنے۔پھر اخلاقی برائیاں ہیں ان میں علاوہ بڑی بڑی اخلاقی برائیوں کے چھوٹی چھوٹی بھی ہیں۔مثلاً ہمسایوں سے اچھا سلوک نہ رکھنا، آپس میں مل کر کسی کا مذاق اڑانا، استہزاء کرنا ہنسی ٹھٹھا کرنا، اپنے بچوں سے بہت پیار کرنا اور دوسرے کے بچوں کو پرے دھکیلنا۔اللہ تعالیٰ کے احکامات جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں کہ وقت پر نماز پڑھو، بڑوں سے ادب سے پیش آؤ، چھوٹوں سے شفقت کرو۔یہ برائیاں ہیں یہ نہ کرنا۔پھر یہ ہے کہ اپنے عہدیداروں کی ہر بات کو غور سے سننا اور ماننا۔نظام جماعت کی پابندی کرنا۔یہ اخلاقی اچھائیاں اگر پیدا ہو جائیں، تو پھر نظام ترقی کرتا ہے۔تو فرمایا کہ اگر یہ سب کام خدا کی خاطر کرو گی تو مومن کہلا ؤ گی اور دن بدن ایمان مضبوط تر ہوتا جائے گا۔اب یہ مومنانہ حالت پیدا کر لی ہے تو اس میں ایک اہم بات فرمانبرداری کی بھی ہے۔اسی تعلق میں فرمایا گیا ہے کامل اطاعت اور فرمانبرداری دکھاؤ۔اب یہ نہیں کہ فلاں عہدہ دار سے، فلاں