اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 44

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 44 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب کہ اول تو تین چار پشتوں کے بعد ا کثر یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل ذات کیا ہے۔سید ہے بھی کہ نہیں۔تو اگر اللہ تعالیٰ تمہاری پردہ پوشی کر رہا ہے اور حالات کی وجہ سے ماحول بدلنے سے لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اصل میں تم کون ہو تو پردہ رہنے دو۔بلا وجہ فخر نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کو یہ دکھاوے پسند نہیں ہیں۔ایک غلطی کر کے پھر غلطیوں پر غلطیاں نہ کرتے چلے جاؤ۔“ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک سید صاحب کو یہ ضد تھی کہ بچیوں کا رشتہ اگر کروں گا تو سیدوں میں کروں گا۔خیر خدا خدا کر کے ایک رشتہ سیدوں میں ملا۔جب بارات آئی تو دولہا کے باپ کو دیکھ کر دلہن کے والد صاحب بے ہوش ہو گئے۔کیونکہ وہ پارٹیشن سے پہلے اُن کے گاؤں کا میراثی تھا جو پاکستان بننے کے بعد سید بن گیا تھا۔تو کسی قسم کی شیخی اور فخر نہیں کرنا چاہئے۔کوئی پتہ نہیں کون کیا ہے۔اور ہو سکتا ہے کہ سید صاحب جن کی بیٹی تھی یہ خود بھی چار پشتوں پہلے سید نہ ہوں تو شاید اللہ تعالیٰ نے اُن کا غرور توڑنے کے لئے یہ رشتہ کروایا ہو۔اس لئے ہر وقت ہرلمحہ استغفار اور خوف کا مقام ہے۔پھر کپڑوں پر بڑا فخر ہورہا ہوتا ہے۔اپنے گزشتہ حالات بھول جاتے ہیں۔حال یا درہ جاتا ہے اور مجلسوں میں بیٹھ کر بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ دیکھو میں نے یہ جوڑا اتنے میں بنایا۔پھر شادی بیاہ پر لاکھوں روپے کا ایک ایک جوڑا بنا لیتے ہیں جو ایک یا دو دفعہ پہن کر کسی کام کا نہیں ہوتا۔اُس کا استعمال ہی نہیں کیا جاتا۔چلیں آپ نے یہ فضول خرچی تو کر لی اب اس کو اپنے تک رکھیں۔پھر اپنے جیسی فضول خرچ عورتوں میں بیٹھ کر دوسروں کا ٹھٹھا اُڑایا جاتا ہے کہ اُس نے کس قسم کے سستے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔اور پھر مالی لحاظ سے بھی اپنے سے کم حتی کہ رشتے دار کو بھی نہیں بخشتے۔تو یہ فخر ، یہ شیخی احمدی عورت میں نہیں ہونی چاہئے۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود قرآن کریم کی تعلیم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : چوتھی قسم ترک شر کے اخلاق میں سے رفق اور قولِ حسن ہے اور یہ خُلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اُس کا نام طلاقت یعنی کشادہ روئی ہے۔بچہ جب تک کلام کرنے پر قادر نہیں ہوتا بجائے رفق اور قول حسن کے طلاقت دکھلاتا ہے۔یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے۔طلاقت ایک قوت ہے اور رفق ایک خلق ہے جو اس