اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 45
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 45 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب قوت کو ٹل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔اس میں خدائے تعالیٰ کی تعلیم 66 یہ ہے۔اس کا ترجمہ میں پڑھ دیتا ہوں کہ یعنی لوگوں کو وہ باتیں کہو جو واقعی طور پر نیک ہوں۔ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے۔ہوسکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھی ہوں۔بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں۔ہوسکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا وہی اچھی ہوں۔اور عیب مت لگاؤ۔اپنے لوگوں کے بُرے بُرے نام مت رکھو۔بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو۔ایک دوسرے کا گلہ مت کرو۔کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔اور یاد رکھو کہ ہر ایک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔یہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیات کا ترجمہ ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 350) پس یہ بڑے استغفار کا مقام ہے کہ اگر پوچھا جانے لگاتو پتہ نہیں اعمال اس قابل ہیں بھی نہیں کہ اقابل یں بھی ہیں بخشش ہو۔اس لئے ہمیشہ استغفار کرتے رہنا چاہئے۔اُس کا فضل مانگنا چاہئے۔نمود و نمائش کر کے بیوت الذکر میں آنے کی ممانعت پھر عورتوں میں ایک بیماری زیور کی نمائش کی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ زیور عورت کی زینت ہے اور زینت کی خاطر وہ پہنتی ہے اور اس کی اجازت بھی ہے لیکن اس زینت کی نمائش ہر جگہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی حدود متعین کی ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت حذیفہ کی ہمشیرہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا ! اے عورتو ! تم چاندی کے زیور کیوں نہیں بنواتیں؟ سنو! کوئی بھی ایسی عورت جس نے سونے کے زیور بنائے اور وہ انہیں فخر کی خاطر عورتوں کو یا