اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 43
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل ہیں۔43 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب ( ملفوظات جلد سوم ، جدید ایڈیشن ، حاشیہ صفحہ 118) پھر بعض مرد بعض دفعہ یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ اسلام نے ہمیں عورتوں پر بعض لحاظ سے فوقیت دی ہے اس لئے ہمیشہ اس کو جوتی کی نوک پر سمجھیں۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں: یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر چیز قرار دیا جاوے۔نہیں نہیں ہمارے ہادی کامل رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَيْرُ محم خَيْرُكُمْ لَاهْلِه یعنی تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک 66 ہو۔( ملفوظات جلد اوّل، جدید ایڈیشن ، صفحہ 403) تو ان باتوں سے واضح ہو گیا کہ عورتوں کا اسلام میں کیا مقام ہے۔اب میں آپ کے سامنے بعض باتیں رکھنا چاہتا ہوں جو اکثر عورتوں میں پائی جاتی ہیں۔کسی میں کم کسی میں زیادہ۔آزادی کی باتیں تو ہو گئیں لیکن اگر یہ ایک حد سے بڑھ جائیں تو معاشرے پر بھی بُرا اثر ڈالتی ہیں۔یہ ایسی باتیں ہیں جہاں آپ کو اپنی آزادی پر کچھ پابندیاں لگانی پڑیں گی۔ہر احمدی عورت کو ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہمیں ان بیماریوں سے جو میں ذکر کروں گا، بچنا ہے۔تا کہ اس حسین معاشرے کو قائم کرنے والی ہوں جس کے قائم کرنے سے اسلام کی خوبیاں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد ملے۔بعض ذاتی اور گھر یلو قسم کی بُرائیاں ایسی ہیں جو ذاتی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی بُرا اثر ڈالتی ہیں اور جن سے بجائے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے برائیوں میں آگے بڑھنے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔مثلا فخر و مباہات وغیرہ، دکھاوا وغیرہ۔حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ایک شیخی کرنا کہ ہم ایسے اور ایسے ہیں پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے۔پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان میں بیٹھی ہو تو اُس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارہ کر دیتی ہیں کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں۔زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔تو یہ بُرائی ایسی ہے جو ذاتی بُرائی تو ہے ہی معاشرے میں بھی بُرائی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔قوم پر فخر ہے کہ ہم سید ہیں یا مغل ہیں یا پٹھان ہیں وغیرہ۔تو حضرت اقدس مسیح موعود نے ایک جگہ فرمایا ہے