اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 42

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 42 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب تو اس لئے حاضر ہوئی تھی کہ ہمیشہ کے لئے عورت کا حق قائم کر کے دکھاؤں تا کہ دنیا پر یہ ثابت ہو کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کو اُس کی مرضی کے خلاف رخصت نہیں کر سکتا۔صحابیہ کہتی ہیں کہ اب جب آس نے حق قائم کر دیا ہے تو خواہ مجھے تکلیف پہنچے، میں باپ کی خاطر اس قربانی کے لئے تیار ہوں۔(سنن ابن ماجه ابواب النكاح باب من زواج ابنته وهي كارهة، مسند احمد بن حنبل جلد 6 ص 163 ) دیکھیں اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عورت میں ایسی آزادی کا احساس پیدا کر دیا تھا جو مادر پدر آزاد ہونے والی آزادی نہیں تھی بلکہ اُن کے حقوق کا تحفظ تھا کہ اپنے حقوق اپنی ذات کے لئے نہیں لینا چاہتی ہوں بلکہ معاشرے کے کمزور ترین وجود کے حقوق محفوظ کروانا چاہتی ہوں۔اور اپنی ذات کے متعلق بتا دیا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے کیونکہ مجھے اپنے باپ سے ایک لگاؤ ہے، ایک تعلق ہے، پیار ہے، محبت ہے۔اس کی بات باوجود یکہ میری مرضی نہیں پھر بھی میں رد نہیں کروں گی اور اس رشتے کو قبول کرتی ہوں۔تو یہ صحابیہ آپ کے لئے ماڈل ہونی چاہئے نہ کہ مغرب کی مصنوعی آزادی کی دعویدار۔اس طرز پر چلنے والی بچیاں اپنے خاندانوں کی عزت قائم کرتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود کی ایک مجلس میں مستورات کا ذکر چل پڑا۔کسی نے ایک سر بر آوردہ ممبر کا ذکر سنایا کہ اُن کے مزاج میں اول سختی تھی۔عورتوں کو ایسا رکھا کرتے تھے جیسے زندان میں رکھا کرتے ہیں۔( یعنی قید میں رکھا ہوتا ہے) اور ذرادہ نیچے اُترتی تو اُن کو مارا کرتے لیکن شریعت میں حکم ہے عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوف النساء: 20) نمازوں میں عورتوں کی اصلاح اور تقویٰ کے لئے دُعا کرنی چاہیے۔قصاب کی طرح برتاؤ نہ کرے کیونکہ جب تک خدا نہ چاہے کچھ نہیں ہوسکتا۔“ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ”مجھ پر بھی بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ عورتوں کو پھراتے ہیں۔اصل میں بات یہ ہے کہ میرے گھر میں ایک ایسی بیماری ہے ( یعنی حضرت ام المومنین کوایسی بیماری ہے ) کہ جس کا علاج پھرانا ہے۔(سیر کروانا ہے۔) جب اُن کی طبیعت زیادہ پریشان ہوتی ہے تو بدیں خیال کہ گناہ نہ ہو۔کہا کرتا ہوں کہ چلو پھر الاؤں اور بھی عورتیں ہمراہ ہوتی