اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 41
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 41 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔لیکن اکثر دعاء صدقات اور رویوں میں تبدیلی سے شکوے کی بجائے اُس کی مدد مانگنے کے لئے اُس کی طرف مزید جھکنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا: ”اے عورتوں کے گروہ! صدقہ کیا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو“۔(صحیح مسلم کتاب الایمان، باب بیان نقصان الايمان بنقص الطاعات ) ی نسخہ بھی آزما کر دیکھیں۔جہاں آپ کی روحانی ترقی ہوگی وہاں بہت کی بلاؤں سے بھی محفوظ رہیں گی۔پھر جوان لڑکیوں کے حقوق ہیں۔اس میں بچیوں کے رشتوں کے معاملے ہوتے ہیں۔گوماں باپ اچھا ہی سوچتے ہیں سوائے شاذ کے جو بیٹی کو بوجھ سمجھ کر گلے سے اُتارنا چاہتے ہیں۔بچیوں کو اُن کے رشتوں کے معاملے میں اسلام یہ اجازت دیتا ہے اگر تم پر زبردستی کی جارہی ہے تو تم نظام جماعت سے، خلیفہ وقت سے مدد لے کر ایسے نا پسندیدہ رشتے سے انکار کر دو۔لیکن یہ اجازت پھر بھی نہیں ہے کہ اپنے رشتے خود ڈھونڈتی پھرو۔بلکہ رشتوں کی تلاش تمہارے بڑوں کا کام ہے یا نظامِ جماعت کا۔ہاں پسند نا پسند کا تمہیں حق ہے۔جس لڑکے کا رشتہ آیا ہے اس کے حالات اگر جاننا چا ہو تو جان سکتی ہو۔سب سے بڑھ کر یہ کہ دعا کر کے شرح صدر ہونے پر رشتے طے کرنے چاہئیں۔رشتوں کے بارے میں آزادی کے نام نہاد دعویدار تو یہ آزادی عورت کو آج دے رہے ہیں، اسلام نے آج سے چودہ سوسال پہلے عورت کی یہ آزادی قائم کر دی۔جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک مال دار شخص سے کر دیا جس کو لڑ کی نا پسند کرتی تھی۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت لے کر حاضر ہوئی اور کہا کہ یا رسول اللہ! ایک تو مجھے آدمی پسند نہیں۔دوسرے میرے باپ کو دیکھیں کہ مال کی خاطر نکاح کر رہا ہے۔میں بالکل پسند نہیں کرتی۔اب یہ دیکھیں کہ وہاں وہ لڑکی بجائے اس کے کہ شور شرابہ کرتی ، ادھر ادھر باتیں کرتی یا گھر سے چلی جاتی وہ سیدھی حضور ﷺ کے پاس گئی ہے۔پتہ تھا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں میرے حقوق کی حفاظت ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو آزاد ہے۔کوئی تجھ پر جبر نہیں ہوسکتا۔جو چاہے کر۔صلى عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اپنے باپ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی اس سے بھی میراتعلق ہے۔میں