اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 344
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 344 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء بھی زندہ رکھنا ہے۔اپنے آپ کو بھی مثالی احمدی بنانا ہے تا کہ ہم اگلی نسلوں کی بھی حفاظت کر سکیں۔دیکھیں اسلام کی ابتدا میں مسلمان عورتوں پر ایسے ایسے ظلم ہوئے کہ ان کو اپنے ایمان چھوڑنے کے لئے کہا جاتا تھا اور جب وہ انکار کرتی تھیں تو اُن کو گرم تپتی ریت پر لٹایا جاتا تھا بھاری پتھر اُن پر رکھ دئے جاتے تھے۔لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے ایمان کو کبھی ضائع نہیں کیا۔انہوں نے یہ سب کچھ صرف اپنے ایمان کی خاطر برداشت کیا ہے اور ثابت کر دیا کہ ہمارا ایمان غیر متزلزل ہے اور کوئی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔کوئی سختی کوئی ظلم ہمیں ہمارے ایمان سے پرے نہیں لے جاسکتا۔کوئی لالچ ہمارے ایمان کو کم نہیں کر سکتا۔پھر مالی قربانی کا وقت آیا تو انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔عورتوں نے پھینک پھینک کے اپنے زیوروں کے ڈھیر لگا دیئے۔آنحضرت کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود کے زمانے میں بھی قربانیوں کی ضرورت پڑی تو عورتوں نے بڑھ چڑھ کر ان قربانیوں میں حصہ لیا۔خلافت ثانیہ کے دور میں افغانستان میں ایک شخص کو شہید کر دیا گیا تو اس کی بیوی نے مردانہ حجرات سے کام لیتے ہوئے اپنے خاوند کی لاش کا انتظام کیا ، دشمنوں کے نرغہ میں سے نکال کے لائی ، پھر اپنے بچوں کو بڑے مشکل اور دشوار راستوں میں سے گزار کرلے کے آئیں۔پاکستان میں انہوں نے خوف کے مارے یا ڈر کے مارے اپنے ایمان میں کمزوری نہیں دکھائی بلکہ اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان تھا اور نیک اعمال کی طرف مکمل توجہ تھی اس وجہ سے اُس ایمان میں بھی ایک مضبوطی پیدا ہوئی۔مسجد برلن جرمنی کی تعمیر میں احمدی خواتین کی بے لوث مالی قربانیاں 1920ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے برلن میں مسجد کے لئے اعلان کیا کہ عورتیں چندہ دیں تو ایک مہینے کے اندر اندر اُس زمانے میں ایک لاکھ روپیہ عورتوں نے اکٹھا کر دیا حالانکہ ہندوستان کی غریب عورتیں تھیں اور تھوڑی سی آمد تھی۔اُس کے باوجود اتنا رو پیدا کٹھا ہو گیا اور بعد میں جب مسجد فضل لندن بنی تو اُسی رقم سے بنی ، یہ عورتوں کی قربانیاں ہی تھیں۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ آج بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کئی عورتیں میری کسی بھی مالی تحریک پہ اپناز یور اور جمع پونچی لے کر آجاتی ہیں کہ آپ کی تحریک کے لئے ہے۔خرچ کر لیں۔تو قربانیوں کی یہ مثالیں آج بھی ملتی ہیں لیکن ہمارے میں