اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 343
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 343 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء ہو گئیں جو پہلے بیان کی گئی ہیں اور اللہ کا ذکر کرنے والی بن گئیں۔بجائے دنیا کی چکا چوند کے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی عبادت اور اس کی خوشی کو حاصل کرنا تمہارا مقصد بن گیا تو تمہیں ایسے اجر کی خوش خبری ہو جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو سکتا۔یہ ایسا اجر ہے جو تمہیں پہلی امتوں کی عورتوں سے ممتاز کر دے گا، ان سے علیحدہ کر دے گا۔اور اسلام کیونکہ دین فطرت ہے اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا بوجھ ہم پہ ڈال دیا ہے۔اسلام کا دعویٰ ہے کہ اسلام کا کوئی حکم بھی انسان کی استعدادوں سے زیادہ نہیں ہے جو طاقتیں اُن کو دی گئی ہیں اُن سے زیادہ نہیں ہے۔اس لئے کوئی حکم بھی بوجھ نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ دُعا بھی سکھا دی ہے کہ اے اللہ! مجھ پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو میری طاقت سے زیادہ ہو۔جب دُعا سکھا دی تو اس لئے سکھائی ہے کہ جو بوجھ بیان کئے گئے ہیں وہ تمہاری طاقتوں کے اندر ہی ہیں۔ہر انسان کی استعداد میں ہوتی ہیں، اپنی طاقتیں ہوتی ہیں تو اس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے اور اُس کے مطابق ہی عمل کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں تلقین فرمائی ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ ہر کام کے لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا محنت بھی کرنی پڑتی ہے اور قربانی بھی کرنی پڑتی ہے تو یہ محنت اور قربانی کرو گی تو اجر عظیم پاؤ گی۔اب ایک مسلمان عورت کہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اجر بھی بڑھا کر دے جو کسی کے تصور میں بھی نہ ہو اور قربانی بھی نہ کرنی پڑے تو یہ تو نہیں ہوسکتا۔ہر اچھی چیز حاصل کرنے کے لئے محنت اور قربانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ان تمام حکموں پر عمل کرنے کے لئے قربانی تو کرنی پڑے گی۔معاشرے کے غلط اثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے یہ عمل تو کرنے پڑیں گے اور نیک اعمال تو بجالانے پڑیں گے۔معاشرے کے ہنسی ٹھیٹھے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان احکامات پر چلنے کی کوشش تو کرنی پڑے گی تب ہی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی بھی ہوگی اور یہ کوئی ایسی باتیں نہیں ہیں جن پر پہلوں نے کبھی عمل نہیں کیا یا آج کل عمل نہیں ہوتا۔مسلمان خواتین کی اعلیٰ قربانیوں کی مثالیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے اُن لوگوں میں جو انتہائی بُرائیوں میں پڑے ہوئے تھے آپ کو ماننے والیوں میں ایک انقلاب برپا ہو گیا تھا اور پھر آپ کے غلام صادق مسیح موعود کے ماننے والیوں میں بھی ایک انقلاب برپا ہوا اُس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ان مثالوں کو ہمیں اپنے اندر