اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 345

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 345 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء اور ہر عورت میں یہ مثال ہونی چاہیے۔ان نیکیوں کو آپ نے زندہ رکھنا ہے۔کسی وقتی جوش کے تحت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خالص بندی بننے کی کوشش کرتے ہوئے۔حضرت مصلح موعود ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک احمدی عورت مجھے ملنے آئی تو اُس نے آکر اپنا زیور نکال کر دے دیا۔جب پاکستان ہندوستان کی پارٹیشن ہوئی ہے یہ اس وقت کی بات ہے۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے کہا کہ کٹ پٹ کے آئی ہو،سب کچھ ضائع ہو چکا ہے، یہ ایک زیور ہے، اپنے پاس رکھو، تمہیں اس کی ضرورت ہے۔اُس عورت نے کہا نہیں جب میں چلی تھی تو میں نے یہ عہد کیا تھا کہ یہ زیور میں جماعت کی خاطر چندے میں دوں گی اور راستے میں سکھوں نے ہمیں لوٹ لیا، سارا زیور ضائع ہو گیا لیکن یہ بچ گیا ہے اس لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ میں اپنے پاس رکھوں۔یہ میں آپ کو پیش کر رہی ہوں اور آپ اسے قبول کریں۔تو یہ مالی قربانیوں کی مثالیں ہیں۔ایک عہد کیا تھا کہ زیور دینا ہے تمام زیور راستے میں لوٹ لئے گئے ، کچھ نہیں بچا صرف وہی ایک بچا لیکن کیونکہ عہد کیا تھا، اللہ تعالیٰ سے ایک وعدہ کیا تھا کہ میں نے چندے میں دینا ہے اس لئے اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی کہ یہ میں زیور دے دوں گی تو میرے پاس کیا رہ جائے گا۔وہ وقتی جوش نہیں تھا جس کے تحت اُس عورت میں یہ زیور دینے کی تحریک پیدا ہوئی تھی بلکہ یہ اُس کے دل کی آواز تھی، ایمان کی گرمی تھی جس نے تمام نقصان ہونے کے باوجود اپنے خدا سے کئے گئے عہد سے منہ نہ موڑ نے دیا۔پس جب تک یہ مثالیں آپ لوگ قائم کرتی رہیں گی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کے وعدوں کی مصداق بنتی رہیں گی۔اولاد کی قربانی پھر اولاد کی قربانی ہے۔اب اولاد کی قربانی اس کے گلے پر چھری پھیرنا تو نہیں ہے۔ان کو دین کی خاطر وقف کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج احمدی مائیں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔بہت سی کمزوریوں کے باوجود جو ہم میں پیدا ہوگئی ہیں ، ان پہلی ماؤں کا بعض معاملات میں تربیت کا ایک مسلسل اثر ہے کہ ان کمزوریوں کے باوجود بعض قربانیوں کے معیار پہلے سے بہتر ہوئے ہیں جو کہ آج سے پچاس ساٹھ ستر سال پہلے نہیں تھے تو یہ بات ایک مثال سے پوری ہوتی ہے۔