اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 307
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 307 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب کیا ہے، تمہیں حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل ہونے کی توفیق دی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فضل کا شکر یہ ہے کہ تم اس کا تقویٰ اختیار کرو، اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔جو غلطیاں ہو چکی ہیں ان کے لئے خدا سے مغفرت طلب کرو۔اللہ تعالیٰ تو بار بار رحم کرتے ہوئے اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پس بدظنی نجس اور غیبت کی بیماریوں کو ترک کرتے ہوئے ہر ایک کو اللہ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مغفرت کا طالب ہونا چاہئے ، اس سے رحم مانگنا چاہئے، تا کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ تقویٰ پر چل سکیں اور تقویٰ پر چلنے والوں کی اللہ کے نزدیک بہت قدر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے نزدیک تو وہی لوگ معزز ہیں جو ان برائیوں سے بچنے والے اور تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔باقی رہے تمہارے قبیلے یا تمہارے خاندان یا تمہاری قومیتیں یہ تو صرف ایک پہچان ہے۔جب ہم نے اس زمانے کے مسیح و مہدی کو مان لیا۔حکم وعدل کو مان لیا۔جب حضرت مسیح موعود کو مان لیا۔جب ہم اس دعوی کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں کہ ہم نے دنیا کو امتِ واحدہ بنانا ہے، ایک ہاتھ پر اکٹھے کرنا ہے، ایک امت بنانا ہے۔تو پھر یہ قومیتیں اور یہ قبیلے اور یہ خاندان کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ پہچان تو ہے کہ ہم کہیں کہ فلاں جرمن ہے، فلاں پاکستانی ہے اور فلاں انڈونیشین ہے، اور فلاں افریقن ہے، گھا نین ہے، نائیجیرین ہے۔لیکن ایک احمدی میں کسی قوم کا ہونے کی وجہ سے بڑائی نہیں آنی چاہئے۔یا کسی احمدی کو کسی بھی قوم کے احمدی کو کسی دوسری قوم کے احمدی کو دیکھ کر یہ احساس نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ یہ ہم سے کمتر ہے۔ایک پاکستانی احمدی کا کام ہے کہ ایک افریقن احمدی کو بھی اسی طرح عزت دے جس طرح ایک جرمن احمدی کی وہ عزت کرتا ہے یا کسی دوسرے یورپین ملک کے باشندے کی عزت کرتا ہے۔اسی طرح ایک احمدی جو یورپین ہے، اسی طرح افریقن کی یا ایشین کی عزت کرے جس طرح وہ یورپین کی کرتا ہے۔جب یہ معاشرہ قائم ہوگا تو خدا کی رضا حاصل کرنے والا معاشرہ ہوگا۔حضرت اقدس مسیح موعودؓ فرماتے ہیں: ,, یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا کسی کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔خدا تعالیٰ خود انصاف ہے اور انصاف کو دوست رکھتا ہے۔وہ خود عدل ہے ، عدل